اشکال بمقابلہ ابہام: غالب کی شاعری کا اصل حسن
غالب کی شاعری کو عموماً 'مشکل' کہا جاتا ہے، لیکن تنقیدی شعور کی روشنی میں یہ اشکال نہیں بلکہ 'ابہام' ہے، جو شعر کا عیب نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا حسن ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
کس نے نہیں کیا ۔ نہ صرف ہندوستانی ادبیات بلکہ عالمی ادب میں غالب کی عظمت اور اس کے شعری مرتبے کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ غالب کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شاعروں نے بھی ان کو ان کی استادی کا خراج پیش کیا ہے ۔ ایسے بہت سے شعر ہیں جن میں غالب کے فنی و تخلیقی کمال کے تذکرے ملتے ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
غالب کی شاعری کو عموماً 'مشکل' کہا جاتا ہے، لیکن تنقیدی شعور کی روشنی میں یہ اشکال نہیں بلکہ 'ابہام' ہے، جو شعر کا عیب نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا حسن ہے۔
وقت کے ساتھ ذوق بدلتا ہے، لیکن کلاسیکی مضامین کو محض سماجی دباؤ یا جدیدیت کی بنا پر مسترد کرنا غیر تنقیدی رویہ ہے۔
یہ مضمون اس تنقیدی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے پیچھے مقلدین کا کوئی اسکول نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے فوراً بعد آنے والے شعرا اس کے اسلوب سے شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار اختیار کرتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر اور غالب دونوں اردو غزل کے روایتی عاشق سے انحراف کرتے ہیں، لیکن میر کا عاشق ایک جیتا جاگتا انسان ہے جبکہ غالب کا عاشق ایک تجریدی اور مثالی پیکر ہے۔