مذہبی یکجہتی پر اشعار
ایک اچھا تخلیق کار ایک
اچھا انسان بھی ہوتا ہے ۔ اس کی ذہنی ، جذباتی ، اور فکری کشادگی اسے کسی خانے میں بند نہیں ہونے دیتی ۔ وہ مذہب ، تہذیب ، رسم ورواج ، رنگ ونسل کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق پیدا نہیں کرتا ہے ۔ مذہبی یک جہتی کے عنوان کے تحت ہم نے جن شعروں کا انتخاب کیا ہے ان کے مطالعے سے یہ احساس اور گہرا ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے مذہبی علیحدگی کے باوجود تمام انسان انسانیت کی بنیاد پر ایک ہیں اور ان کی علیحدگی کی تمام بنیادیں زندگی کی رنگا رنگی اور اس کی خوبصورتی کی علامت ہیں ۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال اس شعر میں مذہب کے نام پر نفرت اور تفریق کی نفی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل شناخت مشترک وطن اور باہمی احترام ہے، نہ کہ آپس کی دشمنی۔ مرکزی جذبہ اتحاد، اخوت اور رواداری کی دعوت ہے۔
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں رام کو ہندوستان کی مشترکہ متاع اور فخر کی علامت بنایا گیا ہے۔ “وجود” سے مراد ان کی دیرپا معنوی موجودگی ہے، جو تہذیب و اخلاق میں رچی بسی ہے۔ “اہلِ نظر” کی تعبیر بتاتی ہے کہ گہری نظر رکھنے والے لوگ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر انہیں امامِ ہند یعنی روحانی رہنما مانتے ہیں۔ مرکزی جذبہ عقیدت اور یکجہتی ہے۔
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا
اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
میرا مذہب عشق کا مذہب جس میں کوئی تفریق نہیں
میرے حلقے میں آتے ہیں تلسیؔ بھی اور جامیؔ بھی
اے ہندوؤ مسلماں آپس میں ان دنوں تم
نفرت گھٹائے جاؤ الفت بڑھائے جاؤ
سنو ہندو مسلمانو کہ فیض عشق سے حاتمؔ
ہوا آزاد قید مذہب و مشرب سے اب فارغ
یہ کس مذہب میں اور مشرب میں ہے ہندو مسلمانو
خدا کو چھوڑ دل میں الفت دیر و حرم رکھنا