Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مذہبی یکجہتی پر اشعار

ایک اچھا تخلیق کار ایک

اچھا انسان بھی ہوتا ہے ۔ اس کی ذہنی ، جذباتی ، اور فکری کشادگی اسے کسی خانے میں بند نہیں ہونے دیتی ۔ وہ مذہب ، تہذیب ، رسم ورواج ، رنگ ونسل کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق پیدا نہیں کرتا ہے ۔ مذہبی یک جہتی کے عنوان کے تحت ہم نے جن شعروں کا انتخاب کیا ہے ان کے مطالعے سے یہ احساس اور گہرا ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے مذہبی علیحدگی کے باوجود تمام انسان انسانیت کی بنیاد پر ایک ہیں اور ان کی علیحدگی کی تمام بنیادیں زندگی کی رنگا رنگی اور اس کی خوبصورتی کی علامت ہیں ۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال اس شعر میں مذہب کے نام پر نفرت اور تفریق کی نفی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل شناخت مشترک وطن اور باہمی احترام ہے، نہ کہ آپس کی دشمنی۔ مرکزی جذبہ اتحاد، اخوت اور رواداری کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں رام کو ہندوستان کی مشترکہ متاع اور فخر کی علامت بنایا گیا ہے۔ “وجود” سے مراد ان کی دیرپا معنوی موجودگی ہے، جو تہذیب و اخلاق میں رچی بسی ہے۔ “اہلِ نظر” کی تعبیر بتاتی ہے کہ گہری نظر رکھنے والے لوگ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر انہیں امامِ ہند یعنی روحانی رہنما مانتے ہیں۔ مرکزی جذبہ عقیدت اور یکجہتی ہے۔

علامہ اقبال

سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا

اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا

حفیظ بنارسی

میرا مذہب عشق کا مذہب جس میں کوئی تفریق نہیں

میرے حلقے میں آتے ہیں تلسیؔ بھی اور جامیؔ بھی

قیصر شمیم

اے ہندوؤ مسلماں آپس میں ان دنوں تم

نفرت گھٹائے جاؤ الفت بڑھائے جاؤ

لال چند فلک

سنو ہندو مسلمانو کہ فیض عشق سے حاتمؔ

ہوا آزاد قید مذہب و مشرب سے اب فارغ

شیخ ظہور الدین حاتم

یہ کس مذہب میں اور مشرب میں ہے ہندو مسلمانو

خدا کو چھوڑ دل میں الفت دیر و حرم رکھنا

شیخ ظہور الدین حاتم
بولیے