Asrarul Haq Majaz's Photo'

اسرار الحق مجاز

1911 - 1955 | لکھنؤ, ہندوستان

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

غزل 39

نظم 57

اشعار 36

تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا

کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی

کب کیا تھا اس دل پر حسن نے کرم اتنا

مہرباں اور اس درجہ کب تھا آسماں اپنا

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

اس سعئ کرم کو کیا کہئے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے

قطعہ 10

لطیفے 29

ای- کتاب 23

آہنگ

 

1956

آہنگ

 

1952

آہنگ

 

2011

ہندوستانی ادب کے معمار: اسرار الحق مجاز

 

2009

کلام مجاز

 

 

کلیات مجاز

 

2002

کلیات مجاز

اسرار الحق مجاز

2006

کلیات مجاز

 

2012

مجاز اور اس کی شاعری

 

1963

مجاز

 

1964

تصویری شاعری 6

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در_بہ_در مارا پھروں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی
جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی
ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے_خانے میں چل
پھر کسی شہناز_لالہ_رخ کے کاشانے میں چل
یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں
اور کوئی ہم_نوا مل جائے یہ قسمت نہیں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

منتظر ہے ایک طوفان_بلا میرے لیے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے
پر مصیبت ہے مرا عہد_وفا میرے لیے
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ اب عہد_وفا بھی توڑ دوں
ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں
ہاں مناسب ہے یہ زنجیر_ہوا بھی توڑ دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب
جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں سلطان_جابر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں
اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں
تخت_سلطاں کیا میں سارا قصر_سلطاں پھونک دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در_بہ_در مارا پھروں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے_خانے میں چل پھر کسی شہناز_لالہ_رخ کے کاشانے میں چل یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں اور کوئی ہم_نوا مل جائے یہ قسمت نہیں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں منتظر ہے ایک طوفان_بلا میرے لیے اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے پر مصیبت ہے مرا عہد_وفا میرے لیے اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جی میں آتا ہے کہ اب عہد_وفا بھی توڑ دوں ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں ہاں مناسب ہے یہ زنجیر_ہوا بھی توڑ دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے سیکڑوں سلطان_جابر ہیں نظر کے سامنے سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں تخت_سلطاں کیا میں سارا قصر_سلطاں پھونک دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در_بہ_در مارا پھروں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی
جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی
ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے_خانے میں چل
پھر کسی شہناز_لالہ_رخ کے کاشانے میں چل
یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں
اور کوئی ہم_نوا مل جائے یہ قسمت نہیں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

منتظر ہے ایک طوفان_بلا میرے لیے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے
پر مصیبت ہے مرا عہد_وفا میرے لیے
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ اب عہد_وفا بھی توڑ دوں
ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں
ہاں مناسب ہے یہ زنجیر_ہوا بھی توڑ دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب
جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں سلطان_جابر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں
اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں
تخت_سلطاں کیا میں سارا قصر_سلطاں پھونک دوں
اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در_بہ_در مارا پھروں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے_خانے میں چل پھر کسی شہناز_لالہ_رخ کے کاشانے میں چل یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں اور کوئی ہم_نوا مل جائے یہ قسمت نہیں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں منتظر ہے ایک طوفان_بلا میرے لیے اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے پر مصیبت ہے مرا عہد_وفا میرے لیے اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جی میں آتا ہے کہ اب عہد_وفا بھی توڑ دوں ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں ہاں مناسب ہے یہ زنجیر_ہوا بھی توڑ دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے سیکڑوں سلطان_جابر ہیں نظر کے سامنے سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں تخت_سلطاں کیا میں سارا قصر_سلطاں پھونک دوں اے غم_دل کیا کروں اے وحشت_دل کیا کروں

 

ویڈیو 42

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
شاعری ویڈیو
A Tribute to Majaz......by shireen farhat

نامعلوم

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 1

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 2

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 3

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 4

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 5

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 6

Kahkashan (Documentary on Asrar-ul-Haq Majaz) Part 7

شعرا متعلقہ

  • وامق جونپوری وامق جونپوری ہم عصر
  • عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم ہم عصر
  • میراجی میراجی ہم عصر
  • جاں نثاراختر جاں نثاراختر ہم عصر
  • جاں نثاراختر جاں نثاراختر برادر نسبتی
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری ہم عصر
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی ہم عصر
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری ہم عصر
  • اختر شیرانی اختر شیرانی ہم عصر
  • جاوید اختر جاوید اختر Nephew

شعرا کے مزید "لکھنؤ"

  • مرزا آسمان جاہ انجم مرزا آسمان جاہ انجم
  • عنبر بہرائچی عنبر بہرائچی
  • مصطفی خاں یکرنگ مصطفی خاں یکرنگ
  • یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی
  • عرفانؔ صدیقی عرفانؔ صدیقی
  • اوج لکھنوی اوج لکھنوی
  • پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
  • مرزا سلامت علی دبیر مرزا سلامت علی دبیر
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی
  • گویا فقیر محمد گویا فقیر محمد

Added to your favorites

Removed from your favorites