Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1723 - 1810 | دلی, انڈیا

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

میر تقی میر

غزل 343

نظم 2

 

اشعار 216

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

تشریح

میر کے شعر گویا غم ہستی کی تصویر نظر آتے ہیں یا یوں کہیے کہ غم ہستی کی تشریح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جو دل پر بیتی ہے میر اس کو شعری جامہ پہنا کر کہنے میں بڑی سہولت محسوس کرتے ہیں۔

میر کہتے ہیں کہ ان کے حال دل سے تمام بوٹے تمام پتے اور تمام بیل بوٹے واقف ہیں۔ گویا سارا باغ سوائے ایک گل کے ان کے حال دل سے اور ان کی تمام کیفیات سے پوری طرح سے واقف ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ پورا باغ گویا دنیا ہے جو ان کے حال دل سے واقف ہے اور یہ جو گُل ہے یہ ان کا محبوب ہے جو جان بوجھ کر ان کے حال دل سے واقفیت رکھنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ جس کا ان کو انتہائی گلہ ہے

۔

میر کے لیے یہ کیفیت انتہائی تکلیف دہ ہے کہ ان کی خستہ حالی ان کے غم اور ان کی تکلیف سے ان کا محبوب واقف ہی نہیں ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں گویا واقف ہونا بھی نہیں چاہتا۔

میر اس تکلیف کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی انتہائی آسان لفظوں میں کر دیتے ہیں۔ یہ بیان اور یہ انداز خدائے سخن میر کی با کمال صلاحیت ہے۔

سہیل آزاد

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

  • شیئر کیجیے

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

تشریح

میر اپنی سہل شاعری میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ جس سہولت سچائی اور آسانی کے ساتھ وہ مضامین کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔

اس شعر میں میر نے بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ اپنے محبوب کے حسن کی تعریف بیان کی ہے۔ ظاہر ہے کہ حسن کی تعریف کے بیان میں محبوب کے ہونٹوں کا بیان بہت اہم شے ہے۔ میر اپنے محبوب کے ہونٹوں کی نازکی ملائمیت یا softness کو بیان کرتے ہوئے تشبیہ دیتے ہیں اور وہ تشبیہ گلاب کے پھول کی پنکھڑی سے دیتے ہیں۔ گلاب کی پنکھڑی بہت نازک ہوتی ہیں، بہت نرم ہوتی ہیں اتنی نرم اور اتنی نازک ہوتی ہیں کہ میر کو اپنے محبوب کے ہونٹوں کی بناوٹ بالکل گلاب کی پنکھڑی کی مانند نظر آتی ہے ۔petals of the rose انتہائی مناسب تشبیہ ہے، جو محبوب کے ہونٹوں کے لیے دی جاسکتی ہے اور میر نے اس مناسب ترین تشبیہ کا استعمال کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اُپما کے چناؤ میں بھی ان کا کوئی بدل نہیں ہے ۔

آسان لفظوں میں کہا جائے تو بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ میر اپنے محبوب کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی کی طرح محسوس کرتے ہیں اس کی نازکی کی یا اس کی ملائمیت یا softness کی وجہ سے اور اس طرح اس تشبیہ نے محبوب کے حسن کا بہترین نقشہ کھینچ دیا ہے۔

سہیل آزاد

مرثیہ 34

قطعہ 26

رباعی 104

میریات 1282

کتاب 129

تصویری شاعری 31

ویڈیو 41

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

مہدی حسن

بیگم اختر

Na socha na samjha na seekha na janaa

بیگم اختر

Zia reads Mir Taqi Mir

Zia reads Mir Taqi Mir ضیا محی الدین

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

مہدی حسن

آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

نامعلوم

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

مہدی حسن

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

Urdu Studio

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

بھارتی وشواناتھن

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

مہران امروہی

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

بیگم اختر

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

فرانسس ڈبلیو پریچیٹ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

میر تقی میر

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

مہران امروہی

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

بھارتی وشواناتھن

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

لتا منگیشکر

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

زمرد بانو

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

اقبال بانو

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

ایم کلیم

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

مہدی حسن

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

بیگم اختر

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

مہدی حسن

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

نامعلوم

عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا

مہران امروہی

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

امجد پرویز

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

مہران امروہی

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

مہران امروہی

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

مہران امروہی

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

مہدی حسن

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ_گاروں کے بیچ

مہران امروہی

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

مہران امروہی

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

مہدی حسن

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

حبیب ولی محمد

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

سلیم رضا

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

سی ایچ آتما

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

پنکج اداس

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

چھایا گانگولی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

غلام علی

آڈیو 45

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے_گا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے