Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

میر

میر انیس اور مرزا دبیر ہم عصر شاعر تھے۔ دونوں نے مرثیہ کو معراج کمال تک پہنچایا۔ ان کے زمانے میں پورا لکھنو دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ انیس کے طرفدار انیسیے اور دبیر کے حامی دبیریے کہلاتے تھے، مگر دونوں اساتذہ آپس میں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔ جب 1874 میں انیس کا انتقال ہوا تو دبیر ان کی نعش پر روتے ہوئے  گئے اور فرمایا کہ ایسے معجز بیان، فصیح اللسان، قدردان کے اٹھ جانے سے اب کچھ لطف نہ رہا۔ انھوں نے انیس کے انتقال پر وہ معرکہ آرا تاریخی قطعہ بھی کہا، جس کا آخری شعر یہ ہے:

آسماں بے ماہِ کامل، سدرہ بے روح الامین
طورِ سینا بے کلیم اللہ، منبر بے انیس

یہی شعر انیس کے لوحِ مزار پر بھی کندہ ہے۔