- کتاب فہرست 188827
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
ڈرامہ1035 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1784 صحت109 تاریخ3601طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1979 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات299 ناول5077 سیاسی375 مذہبیات5042 تحقیق و تنقید7440افسانہ3039 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب572 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6319-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1391
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5416
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
راہی معصوم رضا
مضمون 1
اشعار 5
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں
ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی
خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو
اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 11
نظم 16
کتاب 21
تصویری شاعری 9
ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند جن آنکھوں میں کاجل بن کر تیری کالی رات ان آنکھوں میں آنسو کا اک قطرہ ہوگا چاند رات نے ایسا پینچ لگایا ٹوٹی ہاتھ سے ڈور آنگن والے نیم میں جا کر اٹکا ہوگا چاند چاند بنا ہر دن یوں بیتا جیسے یگ بیتے میرے بنا کس حال میں ہوگا کیسا ہوگا چاند
ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ یادوں سے بچنا مشکل ہے ان کو کیسے سمجھائیں ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ پھر صحرا سے ڈر لگتا ہے پھر شہروں کی یاد آئی پھر شاید آنے والے ہیں زنجیریں پہنانے لوگ ہم تو دل کی ویرانی بھی دکھلاتے شرماتے ہیں ہم کو دکھلانے آتے ہیں ذہنوں کے ویرانے لوگ اس محفل میں پیاس کی عزت کرنے والا ہوگا کون جس محفل میں توڑ رہے ہوں آنکھوں سے پیمانے لوگ
آؤ واپس چلیں رات کے راستے پر وہاں نیند کی بستیاں تھیں جہاں خاک چھانیں کوئی خواب ڈھونڈیں کہ سورج کے رستے کا رخت_سفر خواب ہے اور اس دن کے بازار میں کل تلک خواب کمیاب تھا آج نایاب ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
-
