آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے (ردیف .. ا)
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
تشریح
مطالعہ، مشاہدہ اور غور و فکر سے حاصل کئے گئے علم کو آگاہی کہتے ہیں۔ دام شنیدن سماعت کا جال۔ عنقا، عرب دیومالا میں اک ایسا فرضی پرندہ ہے جو پرواز کی بلندی کے سبب آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مسکن سورج کے غروب ہونے کی جگہ ہے۔ عنقا نایاب، نادرالوجود اور بےنظیر چیز کو بھی کہتے ہیں۔ شعر کا مفہوم یہ ہوا کہ کوئی کتنا بھی سمجھدار، عالم، فاضل اور توجہ سے کلام سننے والا کیوں نہ ہو، میرے کلام کا اصل مطلب اس کی گرفت سے باہر رہے گا۔ عالم تقریر کے دو معنی ہیں۔ ایک میرے کلام کی دنیا یعنی جہانِ معنی اور دوسرا وہ کیفیات جن میں کلام صادر ہوا۔ غالب کہتے ہیں کہ میرے اشعار میں خیال و معنی کی پرواز اتنی بلند اور بے نظیر ہے اور اس کی کیفیت اس قدر نامانوس ہے کہ اس کا آپ کے ہاتھ آنا محال ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی نایاب عنقا کو پکڑنے کے لئے جال بچھانے کا جتن کرے۔ میری شعری گفتگو جن کیفیات پر مبنی ہے، ان سے کوئی گزرا ہی نہیں تو پھر میرے مطلب کو کس طرح سمجھ پائے گا۔ اس کے لئے میرا مدعا مثل عنقا نایاب و نادر الوجود رہے گا۔ اس شعر میں غالب نے قاری یا سامع سے اپنے کلام کو نہ سمجھ پانے کا کوئی شکوہ نہیں کیا ہے، بلکہ اس سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ تمہارے علم و فضل (آگہی) پر مجھے کوئی شک نہیں۔ دراصل میں تصورات کی جس دنیا (عالم) میں رہتا ہوں وہ تمھاری فکری دنیا سے بہت مختلف ہے ۔ مجھ پر جو کیفیات طاری رہتی ہیں یعنی میں جس عالم میں رہتا ہوں اس میں کہی گئی باتیں اگر تم نہ سمجھ سکو تو اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں۔ جس طرح عنقا کو اس کی بلندیٔ پرواز کے سبب پکڑ پانا محال ہے، اسی طرح میرے مطالب تک پہنچنا تمھارے لئے ممکن نہیں۔ یہاں موسی اور خضر کے قصہ کو یا مولانا روم اور شمس تبریز کے معاملہ کو ذہن میں رکھیں تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی کہ غالب نے اس شعر میں کیا کہا ہے۔
محمّد آزم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.