فریب دیر و حرم میں آ کر طواف جام و سبو نہ کرنا
فریب دیر و حرم میں آ کر طواف جام و سبو نہ کرنا
گناہ ہے رند مشربی میں گناہ کی آرزو نہ کرنا
بیاں سے کیا خاک شدت سوز غم کا اندازہ ہو سکے گا
گزارش حال واقعی ہے مریض کا گفتگو نہ کرنا
اگر تجھے گلستان ہستی میں ہے پر و بال کی ضرورت
تو شاخ گل پر کبھی مرتب نشیمن رنگ و بو نہ کرنا
طلوع ہوتا ہے آفتاب خودی گریبان بے خودی سے
تجسس عقل گمرہی ہے تو بھول کر جستجو نہ کرنا
ہو حسن کی رائے میں شکست خودی کہ توہین بے نیازی
عقیدۂ عشق میں تو لیکن حرام ہے آرزو نہ کرنا
یہیں سے اک روز آفتاب حیات نو پھر طلوع ہوگا
اگر وہ تار نظر بھی بخشیں تو چاک دل تو رفو نہ کرنا
تری نگاہ کرم نے ہر انجمن کے آئیں بدل دئے ہیں
کبھی خموشی ثواب تھی اب عذاب ہے گفتگو نہ کرنا
نماز کیا لغزش قدم بھی ہے مستجاب اس کی بارگہہ میں
اگر میسر حضور دل ہو گناہ بھی بے وضو نہ کرنا
ہوائے سیر چمن مبارک گزارش فیضؔ اس قدر ہے
اسیر دام نگاہ ہو کر تو دل کو بے آبرو نہ کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.