Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو دوسروں کے اشاروں پہ چلتے رہتے ہیں

شکیل ابن شرف

جو دوسروں کے اشاروں پہ چلتے رہتے ہیں

شکیل ابن شرف

MORE BYشکیل ابن شرف

    جو دوسروں کے اشاروں پہ چلتے رہتے ہیں

    وہ عمر بھر کف افسوس ملتے رہتے ہیں

    جو تند و تیز ہواؤں میں جلتے رہتے ہیں

    وہی چراغ اندھیروں کو کھلتے رہتے ہیں

    یہ جانتا ہوں مری دسترس میں کچھ بھی نہیں

    مگر وہ خواب جو آنکھوں میں پلتے رہتے ہیں

    تم اپنی چھت پہ سر شام یوں نہ آیا کرو

    تمام رات ستارے مچلتے رہتے ہیں

    کسی کی آنکھوں میں ہوتی ہے زندگی کی چمک

    کسی کی آنکھ سے چشمے ابلتے رہتے ہیں

    خیال کرتے نہیں ہم کبھی مسافت کا

    حصول منزل مقصد میں چلتے رہتے ہیں

    لبوں پہ اپنے تبسم تو میں سجا لوں گا

    مگر جو آنکھوں سے آنسو نکلتے رہتے ہیں

    ذرا بتاؤ تو کس کس کو مات دوگے شکیلؔ

    بساط وقت پہ مہرے بدلتے رہتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے