Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو رنجشیں تھیں انہیں برقرار رہنے دیا

شکیل اعظمی

جو رنجشیں تھیں انہیں برقرار رہنے دیا

شکیل اعظمی

جو رنجشیں تھیں انہیں برقرار رہنے دیا

گلے ملے بھی تو دل میں غبار رہنے دیا

نئے مکان کی تعمیر کر تو لی ہم نے

پرانی چھت کو مگر برقرار رہنے دیا

نہ کوئی خواب دکھایا نہ غم دیا اس کو

بس اس کی آنکھوں میں اک انتظار رہنے دیا

اسے بھلا بھی دیا یاد بھی رکھا اس کو

نشہ اتار دیا اور خمار رہنے دیا

گلی کے موڑ سے آواز دے کے لوٹ آئے

تمام رات اسے بے قرار رہنے دیا

وہ ہم کو توڑ کے جاتا تو بھول جاتے اسے

نکلنے والے نے لیکن حصار رہنے دیا

نہ جانے کیا تھا کہ اس سے فریب کھا کر بھی

اسی کے ہاتھ میں سب اختیار رہنے دیا

یہ سرد رت بھی ہمیں خود کو تاپتے گزری

غزل کو ہم نے مگر سایہ دار رہنے دیا

بڑا گمان تھا اس کو ہماری چاہت کا

شکیلؔ ہم نے بھی اس کا خمار رہنے دیا

مأخذ :
  • کتاب : دل پرندہ ہے (Pg. 82)
  • Author : شکیل اعظمی
  • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2023)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے