مآل حاصل غم کو غم حاصل سمجھتے ہیں
مآل حاصل غم کو غم حاصل سمجھتے ہیں
فریب جادۂ منزل کو ہم منزل سمجھتے ہیں
کبھی گریاں کناں ہوتی ہے جب منظر کی بیتابی
ہم اس بے منظری کو دید کے قابل سمجھتے ہیں
سمجھ سکتی نہیں یہ چشم نرگس پر غنیمت ہے
چمن والے ہمارا عقدۂ مشکل سمجھتے ہیں
ہمیں تو دست قاتل بھی لگے دست مسیحا سا
ستم پرور ہیں جو قاتل کو بھی قاتل سمجھتے ہیں
حقیقت واعظان شہر کی کھل ہی گئی ناصح
ادھورے ہیں جو خود اپنے تئیں کامل سمجھتے ہیں
قفس کو لے اڑی ہے جنبش پر طائر جاں کی
یہ باتیں صاحبان جذبۂ کامل سمجھتے ہیں
ابھی تک مصلحت بینی کے جو زیر تسلط ہیں
فسوں آرا سیاست میں ہمیں شامل سمجھتے ہیں
سنو ہم کشتگاں کی ساکنان شہر خواب آور
تمہارے حال سے واقف ہیں مستقبل سمجھتے ہیں
فنا ہو شمع ناموس وفا پر بڑھ کے پروانے
یہی ہے کار آساں سب جسے مشکل سمجھتے ہیں
نظر سے پی لے جو درد تہ جام محبت کو
ہم اس محفل نشیں کو صاحب محفل سمجھتے ہیں
مسلتے ہیں رگ احساس کو پیروں تلے پیہم
وہ سنگ رہ گزر کو بھی ہمارا دل سمجھتے ہیں
مظفرؔ کس کو اندازہ ہے ان کی تیز گامی کا
جو سنگ میل کو گرد رہ منزل سمجھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.