طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا
طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیا
ہائے وہ دل جو ترے جلوہ کا شیدا ہو گیا
یک بیک اے التفات یار یہ کیا ہو گیا
درد پہلے دل میں اٹھا پھر تمنا ہو گیا
خاک کر دینا ہے ہستی کا کمال زندگی
قطرہ دریا ہے جو ہم آغوش دریا ہو گیا
ناتوانی صبر کی تلقین جب کرنے لگی
درد ہی ہمدرد بن کر چارہ فرما ہو گیا
رہ گئی دل میں جو حسرت راز الفت بن گئی
اشک بس آنکھوں سے ٹپکا تھا کہ دریا ہو گیا
جھولتی تھی کل اسی گہوارے میں معصومیت
آج یہ دل محشرستان تمنا ہو گیا
ہر تمنا بن رہی ہے اک جہان آرزو
کون یہ دل میں الٰہی جلوہ فرما ہو گیا
کیوں مرے کہنے سے وہ پردے کے باہر آ گئے
عشق تو مجنوں ہے لیکن حسن کو کیا ہو گیا
طعنۂ احباب دنیا کی قیاس آرائیاں
اک تری خاطر مجھے سب کچھ گوارا ہو گیا
اب کہاں لے جائیں اپنی اس طبیعت کو منیرؔ
لو خیال عشق بھی اندوہ افزا ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.