اس پہ ہر نقش ابھرتا ہے گزرنے والا
اس پہ ہر نقش ابھرتا ہے گزرنے والا
سطح دریا پہ نہیں کوئی ٹھہرنے والا
اپنی پونجی کو کیا میں نے حوالے اس کے
تھا جو رستے میں مری جیب کترنے والا
جس طرف دیکھیے چھائے ہیں غموں کے بادل
جانے کس زخم کا چہرہ ہے بکھرنے والا
میری آنکھوں کی پہنچ دیکھ کے ڈر جاتا ہے
رنگ بے نور تصاویر میں بھرنے والا
وہ چنا کرتا ہے ہر رات چمکتے تارے
میں بنا کرتا ہوں ہر خواب بکھرنے والا
دل کے زخموں کو زباں دیتے ہو کیوں پھولوں کی
اتنی گہرائی میں ہے کون اترنے والا
تابش مہر سے مجھ کو نہ ڈرانا وصفیؔ
میں تو ہوں اپنی ہی بینائی سے ڈرنے والا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.