احمد وصی کے اشعار
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
جو کہتا تھا زمیں کو میں ستاروں سے سجا دوں گا
وہی بستی کی تہ میں رکھ گیا چنگاریاں اپنی
مدت گزر گئی ہے کہ دل کو سکوں نہیں
مدت گزر گئی ہے کسی کا بھلا کئے
جدائی کیوں دلوں کو اور بھی نزدیک لاتی ہے
بچھڑ کر کیوں زیادہ پیار کا احساس ہوتا ہے
لوگ حیرت سے مجھے دیکھ رہے ہیں ایسے
میرے چہرے پہ کوئی نام لکھا ہو جیسے
جو چہرے دور سے لگتے ہیں آدمی جیسے
وہی قریب سے پتھر دکھائی دیتے ہیں
تھک کے یوں پچھلے پہر سو گیا میرا احساس
رات بھر شہر میں آوارہ پھرا ہو جیسے
مدت کے بعد آئنہ کل سامنے پڑا
دیکھی جو اپنی شکل تو چہرہ اتر گیا
میں سانس سانس ہوں گھائل یہ کون مانے گا
بدن پہ چوٹ کا کوئی نشان بھی تو نہیں
روتی آنکھوں کو ہنسانے کا ہنر لے کے چلو
گھر سے نکلو تو یہ سامان سفر لے کے چلو
پھر چاندنی لگے تری پرچھائیں کی طرح
پھر چاند تیری شکل میں ڈھلتا دکھائی دے
ان سے زندہ ہے یہ احساس کہ زندہ ہوں میں
شہر میں کچھ مرے دشمن ہیں بہت اچھا ہے
یوں جاگنے لگے تری یادوں کے سلسلے
سورج گلی گلی سے نکلتا دکھائی دے
تمہیں تمہارے علاوہ بھی کچھ نظر آئے
گر اپنے آئنہ خانوں سے تم نکل آ آؤ
برتاؤ اس طرح کا رہے ہر کسی کے ساتھ
خود کو لئے دیے بھی رہو دوستی کے ساتھ
تجھ سے سمجھوتے کی ہے شرط یہی اے دنیا
جب اشارہ میں کروں میری طرف تو آئے
اپنی ہی ذات کے صحرا میں آج
لوگ چپ چاپ جلا کرتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ