Ajiz Matvi's Photo'

عاجز ماتوی

1935 | لکھنؤ, ہندوستان

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

عاجز ماتوی

غزل 20

اشعار 12

جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز

مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم

جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ

کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے

ستم یہ ہے وہ کبھی بھول کر نہیں آیا

تمام عمر رہا جس کا انتظار مجھے

میں جن کو اپنا کہتا ہوں کب وہ مرے کام آتے ہیں

یہ سارا سنسار ہے سپنا سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں

ایک ہم ہیں ہم نے کشتی ڈال دی گرداب میں

ایک تم ہو ڈرتے ہو آتے ہوئے ساحل کے پاس

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی
  • سراج لکھنوی سراج لکھنوی
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی