Akhtar Shumar's Photo'

اختر شمار

1960 | پاکستان

اختر شمار

غزل 15

اشعار 11

میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے

تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں

ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا

نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ

اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے

مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا

خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں

اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

کتاب 2

ہمیں تیری تمنا ہے

 

1996

جیون تیرے نام

 

1994

 

آڈیو 3

ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

 

مزید دیکھیے