موت کی آرزو میں دیوانے

عمر بھر زندگی سے لڑتے ہیں

لفظ یوں خامشی سے لڑتے ہیں

جس طرح غم ہنسی سے لڑتے ہیں

تجھ پہ جمی ہیں سب کی نظریں

تیری نظر میں کون رہے گا

میں مسکراتا مگر دی نہ اشک نے مہلت

خوشی جب ایک ملی ساتھ غم ہزار ملے

ابرؔ دنیا کو چھوڑ جانے کا

اک بہانہ تلاش کرنا ہے

آج انساں کو تپتے صحرا میں

بہتا دریا تلاش کرنا ہے

کیوں ہاتھ دل سے لگاتے ہو بار بار اپنا

کیا دل میں اب بھی کوئی بے نظیر رہتا ہے

پھر اہل عشق کی تخلیق ہوتی ہے پہلے

جنوں کی آگ میں برسوں خمیر رہتا ہے