اطہر نادر
غزل 19
اشعار 22
دیکھو تو ہر اک رنگ سے ملتا ہے مرا رنگ
سوچو تو ہر اک بات ہے اوروں سے جدا بھی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رات آنگن میں چاند اترا تھا
تم ملے تھے کہ خواب دیکھا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غم گساری کے لئے اب نہیں آتا ہے کوئی
زخم بھر جانے کا امکاں نہ ہوا تھا سو ہوا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہو گئی شام ڈھل گیا سورج
دن کو شب میں بدل گیا سورج
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے
کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے