Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

بوم میرٹھی

1888 - 1954 | میرٹھ, انڈیا

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

بوم میرٹھی کے اشعار

ان سے چھینکے سے کوئی چیز اتروائی ہے

کام کا کام ہے انگڑائی کی انگڑائی ہے

شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی

فدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے

گیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے

مگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں

بوم صاحب کا عجب رنگ نرالا دیکھا

یار یاروں میں ہے اغیار ہے اغیاروں میں

بس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو

مسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا

پڑیں جوتے ہزاروں سر پہ لیکن میں نہ نکلوں گا

تیرے کوچہ کے ہمسر باغ رضواں ہو نہیں سکتا

لے کے اس شوخ کو آرام سے چھت پر سویا

غیر کو ڈال دیا باندھ کے شہتیر کے ساتھ

Recitation

بولیے