بوم میرٹھی کے اشعار
ان سے چھینکے سے کوئی چیز اتروائی ہے
کام کا کام ہے انگڑائی کی انگڑائی ہے
شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی
فدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے
نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں
اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں