Fahmi Badayuni's Photo'

فہمی بدایونی

1952 | بدایوں, ہندوستان

غزل 19

اشعار 12

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

کتنا آسان تھا علاج مرا

میں نے اس کی طرف سے خط لکھا

اور اپنے پتے پہ بھیج دیا

  • شیئر کیجیے

خوشی سے کانپ رہی تھیں یہ انگلیاں اتنی

ڈلیٹ ہو گیا اک شخص سیو کرنے میں

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 1

 

تصویری شاعری 2

جاہلوں کو سلام کرنا ہے اور پھر جھوٹ_موٹ ڈرنا ہے کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدائے_بال_و_پر کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی_الحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں اور بازار سے گزرنا ہے

بس تمہارا مکاں دکھائی دیا جس میں سارا جہاں دکھائی دیا وہ وہیں تھا جہاں دکھائی دیا عشق میں یہ کہاں دکھائی دیا عمر بھر پر نہیں ملے ہم کو عمر بھر آسماں دکھائی دیا روز دیدہ_وروں سے کہتا ہوں تو کہاں تھا کہاں دکھائی دیا اچھے_خاصے قفس میں رہتے تھے جانے کیوں آسماں دکھائی دیا

 

"بدایوں" کے مزید شعرا

  • وسیم نادر وسیم نادر
  • عزیز بدایونی عزیز بدایونی
  • عمران بدایوںی عمران بدایوںی
  • منور بدایونی منور بدایونی
  • پشپ راج یادو پشپ راج یادو
  • احمد عظیم احمد عظیم
  • حسیب سوز حسیب سوز
  • قمر بدایونی قمر بدایونی
  • مذاق بدایونی مذاق بدایونی
  • فانی بدایونی فانی بدایونی