فنا بلند شہری کے اشعار
اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا
اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو
اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا
اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو
آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے
پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا
آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے
پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا
اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں
قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں
اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں
قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں
اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ
آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا
اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ
آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا
کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد
نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا