غزل 12

اشعار 7

ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں

سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے

نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل

سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے

میرا ہر خواب تو بس خواب ہی جیسا نکلا

کیا کسی خواب کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے

دل ایسا مکاں ہے جو اگر ٹوٹ گیا تو

لگ جائیں گی صدیاں نئی تعمیر میں لکھ دے

ڈھونڈیں گے ہر اک چیز میں جینے کی امنگیں

دل کی کسی خواہش کو بھی ماریں گے نہیں ہم

کتاب 1

سارے خواب اس کے ہیں

 

2010

 

"نیو یارک" کے مزید شعرا

  • ظفر زیدی ظفر زیدی
  • احمد عرفان احمد عرفان
  • رئیس وارثی رئیس وارثی
  • ن م دانش ن م دانش
  • خالد عرفان خالد عرفان
  • صبیحہ صبا صبیحہ صبا
  • فرحت زاہد فرحت زاہد