Farigh Bukhari's Photo'

فارغ بخاری

1917 - 1997 | پاکستان

غزل 33

نظم 3

 

اشعار 18

سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں

نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

ای- کتاب 7

بے چہرہ سوال

 

1987

غزلیہ

 

1983

غزلیہ

 

1983

خوشحال خان کے افکار

 

 

محبتوں کے نگار خانے

 

1987

پشتو شاعری

 

1966

پیاسے ہاتھ

 

1982

 

تصویری شاعری 2

یاد آئیں_گے زمانے کو مثالوں کے لیے جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گر راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے آؤ تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے سالہا_سال عقیدت سے کھلا رہتا ہے منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے لیے رات کا کرب ہے گلبانگ_سحر کا خالق پیار کا گیت ہے یہ درد اجالوں کے لیے شب_فرقت میں سلگتی ہوئی یادوں کے سوا اور کیا رکھا ہے ہم چاہنے والوں کے لیے