aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فرخ جعفری

غزل 20

اشعار 8

کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے

مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا

مسئلہ یہ ہے کہ اس کے دل میں گھر کیسے کریں

درمیاں کے فاصلے کا طے سفر کیسے کریں

تھے اس کے ہاتھ لہو میں ہمارے غرق مگر

ذرا بھی شرم نہ آئی اسے مکرتے ہوئے

ہر روز دکھائی دیں سب لوگ وہیں لیکن

جب ڈھونڈنے نکلیں تو ملتا ہی نہیں کوئی

جسم کے اندر جو سورج تپ رہا ہے

خون بن جائے تو پھر ٹھنڈا کریں گے

کتاب 2

 

"الہٰ آباد" کے مزید شعرا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے