Haidar Ali Aatish's Photo'

حیدر علی آتش

1778 - 1847 | لکھنؤ, انڈیا

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

حیدر علی آتش

غزل 99

اشعار 92

بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

  • شیئر کیجیے

عجب تیری ہے اے محبوب صورت

نظر سے گر گئے سب خوب صورت

  • شیئر کیجیے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

نہ پاک ہوگا کبھی حسن و عشق کا جھگڑا

وہ قصہ ہے یہ کہ جس کا کوئی گواہ نہیں

  • شیئر کیجیے

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

کتاب 25

ویڈیو 8

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

مہدی حسن

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

بیگم اختر

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

حیدر علی آتش

وحشت_دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

مہدی حسن

کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب_گار لا چکے

نامعلوم

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو_بہ_رو کرتے

حیدر علی آتش

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو_بہ_رو کرتے

ٹینا ثانی

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو_بہ_رو کرتے

حامد علی خان

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو_بہ_رو کرتے

سیان چودھری

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو_بہ_رو کرتے

شفقت امانت علی

آڈیو 9

آئنہ سینۂ_صاحب_نظراں ہے کہ جو تھا

تار_تار_پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے_دوست

حسن_پری اک جلوۂ_مستانہ ہے اس کا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے