Hazin Ludhianvi's Photo'

حزیں لدھیانوی

حزیں لدھیانوی

غزل 17

اشعار 6

نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری

اگرچہ مل گئے دیہات آ کے شہروں سے

تندیٔ سیل وقت میں یہ بھی ہے کوئی زندگی

صبح ہوئی تو جی اٹھے، رات ہوئی تو مر گئے

طلوع ہوگا ابھی کوئی آفتاب ضرور

دھواں اٹھا ہے سر شام پھر چراغوں سے

آؤ مل بیٹھ کر ہنسیں بولیں

نہیں معلوم کب جدا ہو جائیں

اتر کے نیچے کبھی میرے ساتھ بھی تو چلو

بلند کھڑکیوں سے کب تلک پکارو گے

کتاب 2

لہو کی صدا

 

1977

متقل آرزو

 

1984