Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hilal Badayuni's Photo'

ہلال بدایونی

1985 | بدایوں, انڈیا

ہلال بدایونی کے اشعار

392
Favorite

باعتبار

کچھ اور دے نہ پائے زمانہ کو ہم ہلالؔ

پیغام امن دیں گے اسی شاعری سے ہم

غریب شخص کو ملتا نہیں کسی بھی طرح

یہ عشق ہو گیا سرکاری نوکری کی طرح

جب چھوا ہوگا اس نے پھولوں کو

ہوش خوشبو کے اڑ گئے ہوں گے

تم نے جو میرے دل کو پریشان کیا ہے

یہ گھر تو تمہارا تھا جو ویران کیا ہے

کہنے پے تیرے ماں کو بھلا کیسے چھوڑ دوں

تو ایسا کر کہ دوسرا شوہر تلاش کر

مرے نکاح سے پہلے یہ بات لکھ دینا

تم اپنے مہر میں میری حیات لکھ دینا

تمہارے سامنے جذبات سارے کھول سکتا ہوں

جو سننا چاہتے ہو تم میں وہ بھی بول سکتا ہوں

موجود میرے دل میں تمہاری جو یاد ہے

یہ میری ملکیت ہے مری جائیداد ہے

ہلالؔ اور زیادہ ہو تیرا زور قلم

یہ شاعری تری دل کی زبان تک پہنچی

سارے جہاں میں میرے سکوں کا نشاں نہیں

سب کچھ ہے میرے پاس مگر میری ماں نہیں

صرف رشتہ نہیں ایک احساس ہے

دور ہو کر بھی ماں تو مرے پاس ہے

موجود میرے دل میں جو زخموں کے داغ ہیں

وہ ایک بے وفا کے ستم کے چراغ ہیں

مزہ تو جب ہے کہ دل کا اندھیرا مٹ جائے

گھروں میں لاکھ چراغاں کیا کرے کوئی

مجھے یہ فخر ہے تم کو خیال رہتا ہے

تمہارے ذہن میں کوئی ہلالؔ رہتا ہے

چہرے سے نہ جانے گا آواز سے جانے گا

ہر شخص مجھے میرے انداز سے جانے گا

شجر پے عشق کے پتا ہرا نہیں اترا

مری کسوٹی پے تو بھی کھرا نہیں اترا

انہیں بتاؤ بزرگوں کا ہے کرم اس پر

ہلالؔ اچھا سخنور اسی لیے تو ہے

Recitation

بولیے