Inder Saraazi's Photo'

اندر سرازی

1990 | ڈوڈہ, ہندوستان

157
Favorite

باعتبار

ساون کی اس رم جھم میں

بھیگ رہا ہے تنہا چاند

کتنا پیارا لگتا ہے

ہوتا ہے جب پورا چاند

جس کا ڈر تھا وہی ہوا یارو

وہ فقط ہم سے ہی خفا نکلا

دکھ اداسی ملال غم کے سوا

اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا

اک عجب شور بپا ہے اندر

پھر سے دل ٹوٹ رہا ہے شاید

کیا خبر کیا خطا مری تھی کہ جو

مجھ سے روٹھا رہا خدا میرا

اور تو کوئی تھا نہیں شاید

رات کو اٹھ کے میں ہی چیخا تھا

اب کسی کام کے نہیں یہ رہے

دل وفا عشق اور تنہائی

بڑی مشکل سے بہلایا تھا خود کو

اچانک یاد تیری آ گئی پھر

کچھ ہوا کا بھی ہاتھ تھا ورنہ

پردہ یوں ہی ہلا نہیں ہوتا

جو ملا توڑتا گیا اس کو

دل لگا تھا مرا ہزاروں سے

چھوڑ کے مجھ کو کیا گیا وہ شخص

تب سے سب کچھ ہی لٹ گیا میرا

دل کے خوں سے بھی سینچ کر دیکھا

پیڑ کیوں یہ ہرا نہیں ہوتا

کیا خبر کب برس کے ٹوٹ پڑے

ہر طرف ایسی ہے گھٹا چھائی

خوب تھی اب مگر بدل سی گئی

تیرے اس شہر کی یہ تنہائی

سدا ہر بار دہرایا گیا ہوں

میں نغمے کی طرح گایا گیا ہوں

رازداں ہوتے ہیں وہ گھر اکثر

جن گھروں میں دھواں نہیں ہوتا