Inder Saraazi's Photo'

اندر سرازی

1990 | ڈوڈہ, ہندوستان

54
Favorite

باعتبار

جس کا ڈر تھا وہی ہوا یارو

وہ فقط ہم سے ہی خفا نکلا

ساون کی اس رم جھم میں

بھیگ رہا ہے تنہا چاند

اور تو کوئی تھا نہیں شاید

رات کو اٹھ کے میں ہی چیخا تھا

دل کے خوں سے بھی سینچ کر دیکھا

پیڑ کیوں یہ ہرا نہیں ہوتا

کچھ ہوا کا بھی ہاتھ تھا ورنہ

پردہ یوں ہی ہلا نہیں ہوتا

بڑی مشکل سے بہلایا تھا خود کو

اچانک یاد تیری آ گئی پھر

اب کسی کام کے نہیں یہ رہے

دل وفا عشق اور تنہائی

جو ملا توڑتا گیا اس کو

دل لگا تھا مرا ہزاروں سے

کتنا پیارا لگتا ہے

ہوتا ہے جب پورا چاند

چھوڑ کے مجھ کو کیا گیا وہ شخص

تب سے سب کچھ ہی لٹ گیا میرا

اک عجب شور بپا ہے اندر

پھر سے دل ٹوٹ رہا ہے شاید

دکھ اداسی ملال غم کے سوا

اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا

کیا خبر کیا خطا مری تھی کہ جو

مجھ سے روٹھا رہا خدا میرا

رازداں ہوتے ہیں وہ گھر اکثر

جن گھروں میں دھواں نہیں ہوتا

کیا خبر کب برس کے ٹوٹ پڑے

ہر طرف ایسی ہے گھٹا چھائی

خوب تھی اب مگر بدل سی گئی

تیرے اس شہر کی یہ تنہائی

سدا ہر بار دہرایا گیا ہوں

میں نغمے کی طرح گایا گیا ہوں