جلیل عالیؔ

غزل 42

اشعار 19

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجے

لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

  • شیئر کیجیے

دنیا تو ہے دنیا کہ وہ دشمن ہے سدا کی

سو بار ترے عشق میں ہم خود سے لڑے ہیں

کتاب 4

عرض ہنر سے آگے

 

2007

خواب دریچہ

 

2004

شوق ستارہ

 

1998

 

متعلقہ شعرا

  • مظفر وارثی مظفر وارثی ہم عصر

"راول پنڈی" کے مزید شعرا

  • اختر ہوشیارپوری اختر ہوشیارپوری
  • صابر ظفر صابر ظفر
  • باقی صدیقی باقی صدیقی
  • جمیل ملک جمیل ملک
  • شمامہ افق شمامہ افق
  • پروین فنا سید پروین فنا سید
  • حسن عباس رضا حسن عباس رضا
  • منظور عارف منظور عارف
  • یامین یامین
  • افضل منہاس افضل منہاس