جاوید شاہین
غزل 56
نظم 14
اشعار 15
ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
خود بنا لیتا ہوں میں اپنی اداسی کا سبب
ڈھونڈ ہی لیتی ہے شاہیںؔ مجھ کو ویرانی مری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے