Kaifi Hyderabadi's Photo'

کیفی حیدرآبادی

1880 - 1920

کیفی حیدرآبادی

غزل 6

اشعار 12

وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا

تجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھا

  • شیئر کیجیے

ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلے

اب آپ کی راہ دیکھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتا

سمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتا

  • شیئر کیجیے

اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کر

خط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملا

  • شیئر کیجیے

رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا

کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا

  • شیئر کیجیے

کتاب 4

حیات کیفی

 

1985

کلام کیفی

 

1927

نظم کیفی حیدرآبادی

 

1927

سر مست

 

 

 

مزید دیکھیے