Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Makhfi Lakhnavi's Photo'

مخفی لکھنوی

1902 - 1953 | کراچی, پاکستان

امۃ الفاطمہ مخفیؔ لکھنوی پردہ نشیں خاتون تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر گئیں۔ پختہ کلام شاعرہ تھیں

امۃ الفاطمہ مخفیؔ لکھنوی پردہ نشیں خاتون تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر گئیں۔ پختہ کلام شاعرہ تھیں

مخفی لکھنوی کے اشعار

148
Favorite

باعتبار

عشق کی فطرت نے یوں بدلا مذاق زندگی

جتنے غم بڑھنے لگے اتنی خوشی ہونے لگی

مرا آنا جہاں میں منحصر تھا تین باتوں پر

جفا سہنا وفا کرنا اور اس کے بعد مر جانا

عشق کی اللہ رے فتنہ کاریاں

پاک دامن چاک دامن ہو گئے

پردہ ہے اک بقا کا راز فنا نہ پوچھو

مر کر بھی ساتھ ہم سے چھوٹا نہ زندگی کا

وہ چھپنا ترا پردۂ رنگ و بو میں

وہ ہر رنگ میں میرا پہچان جانا

جلا آشیاں جب سے دل مطمئن ہے

نہ بجلی کا خطرہ نہ دھڑکا خزاں کا

وسعت دل ارے معاذ اللہ

ساری دنیا سمائی جاتی ہے

خدا کے بھروسے پہ چھوڑی ہے کشتی

نہ گرداب دیکھا نہ طوفان جانا

یوں منظر ہستی پہ تری چھا گئیں آنکھیں

اک کیف سا ہر چیز پہ برسا گئیں آنکھیں

بہت جستجو کی بہت خاک چھانی

کدھر ہے تو اے جلوۂ لا مکانی

ہر بات کا احساس مرے دل سے مٹا دے

زندہ مجھے رکھنا ہے تو دیوانہ بنا دے

یوں بے حجاب ہیں کہ ہیں جیسے حجاب میں

اس بزم میں کسی کو مجال نظر کہاں

جس کو عبرت دلائی جاتی ہے

میری صورت دکھائی جاتی ہے

بکھری ہر سو پڑی ہیں زنجیریں

جوش رنگینیٔ بہار نہ پوچھ

وفا ابتدا ہے وفا انتہا ہے

خلاصہ ہے بس یہ مری داستاں کا

Recitation

بولیے