مسعودہ حیات
غزل 18
نظم 16
اشعار 12
کس سے شکوہ کریں ویرانیٔ ہستی کا حیاتؔ
ہم نے خود اپنی تمناؤں کو جینے نہ دیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہزار شوق نمایاں تھے جس نظر سے کبھی
وہی نگاہ بڑی اجنبی سی لگتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
شیشہ کہیں ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایک خوشبو سی ابھرتی ہے نفس سے میرے
ہو نہ ہو آج کوئی آن بسا ہے مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تمام عمر بھٹکتے رہے جو راہوں میں
دکھا رہے ہیں وہی آج راستا مجھ کو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے