Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی

1840 - 1902

منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی کے اشعار

288
Favorite

باعتبار

ہر اک فقرے پہ ہے جھڑکی تو ہے ہر بات پر گالی

تم ایسے خوبصورت ہو کے اتنے بد زباں کیوں ہو

ہدایت شیخ کرتے تھے بہت بہر نماز اکثر

جو پڑھنا بھی پڑی تو ہم نے ٹالی بے وضو برسوں

چار بوسے تو دیا کیجیے تنخواہ مجھے

ایک بوسے پہ مرا خاک گزارا ہوگا

نہ لڑاؤ نظر رقیبوں سے

کام اچھا نہیں لڑائی کا

جو تیرے گنہ بخشے گا واعظ وہ مرے بھی

کیا تیرا خدا اور ہے بندہ کا خدا اور

ملک الموت موذن ہے مرا وصل کی رات

دم نکل جاتا ہے جب وقت اذاں آتا ہے

قشقہ نہیں پیشانی پہ اس ماہ جبیں کے

اللہ نے یہ حسن کے خرمن کو ہے چانکا

آنکھ اپنی تری ابرو پہ جمی رہتی ہے

روز اس بیت پہ ہم صاد کیا کرتے ہیں

شاید مزاج ہم سے مکدر ہے یار کا

لکھا ہے اس نے ہم کو بہ خط غبار خط

کافر ہو پھر جو شرع کا کچھ بھی کرے خیال

جب جام بھر کے ہاتھ سے یار اپنے دے شراب

ہجوم رنج و غم و درد ہے مروں کیوں کر

قدم اٹھاؤں جو آگے کشادہ راہ ملے

Recitation

بولیے