Qalaq Merathi's Photo'

قلق میرٹھی

1832/3 - 1880

غزل 42

اشعار 51

تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

  • شیئر کیجیے

ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو

یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

بوسہ دینے کی چیز ہے آخر

نہ سہی ہر گھڑی کبھی ہی سہی

  • شیئر کیجیے

نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے

فقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہے

  • شیئر کیجیے

زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزا شیریں

سبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے

  • شیئر کیجیے

رباعی 69

کتاب 8

دیوان قلق

 

1883

گلستان بازک خیال

کلیات اردوئے قلق

1883

گلستان نازک خیالی

کلیات اردوئے قلق

1883

جواہر منظوم

 

1867

کلیات قلق

 

1966

کلیات اردو قلق

 

1847

نظم جدید کی تثلیث

 

2005

قلق میرٹھی حیات اور کارنامے

 

1992