Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Quaiser Khalid's Photo'

قیصر خالد

1971 | ممبئی, انڈیا

قیصر خالد کے اشعار

500
Favorite

باعتبار

میٹھی باتیں، کبھی تلخ لہجے کے تیر

دل پہ ہر دن ہے ان کا کرم بھی نیا

باتوں سے پھول جھڑتے تھے لیکن خبر نہ تھی

اک دن لبوں سے ان کے ہی نشتر بھی آئیں گے

تیرے بن حیات کی سوچ بھی گناہ تھی

ہم قریب جاں ترا حصار دیکھتے رہے

آتش عشق سے بچئے کہ یہاں ہم نے بھی

موم کی طرح سے پتھر کو پگھلتے دیکھا

ڈال دی پیروں میں اس شخص کے زنجیر یہاں

وقت نے جس کو زمانے میں اچھلتے دیکھا

اب اس طرح بھی روایت سے انحراف نہ کر

بدل اگرچہ تو اچھا نہ دے، خراب تو دے

مہمل ہے نہ جانیں تو، سمجھیں تو وضاحت ہے

ہے زیست فقط دھوکا اور موت حقیقت ہے

ہو پائے کسی کے ہم بھی کہاں یوں کوئی ہمارا بھی نہ ہوا

کب ٹھہری کسی اک پر بھی نظر کیا چیز ہے شہر خوباں بھی

عمر بھر کھل نہیں پاتے ہیں رموز و اسرار

لوگ کچھ سامنے رہ کر بھی نہاں ہوتے ہیں

کچھ تو ہی بتا آخر کیوں کر ترے بندوں پر

ہر شب ہے نئی آفت ہر روز مصیبت ہے

Recitation

بولیے