Saleem Ahmed's Photo'

سلیم احمد

1927 - 1983 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین نقادوں میں نمایاں۔ اینٹی غزل رجحان اور جدیدیت مخالف رویے کے لئے مشہور

پاکستان کے ممتاز ترین نقادوں میں نمایاں۔ اینٹی غزل رجحان اور جدیدیت مخالف رویے کے لئے مشہور

سلیم احمد

غزل 62

نظم 22

اشعار 69

نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو

بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے

در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا

گھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا

گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے

یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر

مضمون 18

کتاب 14

ویڈیو 17

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

سلیم احمد

سلیم احمد

سلیم احمد

سلیم احمد

سلیم احمد

titli ne kaha tha mashrik mashrik hai

سلیم احمد

دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں

سلیم احمد

ترے سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہوں

سلیم احمد

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

سلیم احمد

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

سلیم احمد

جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے

سلیم احمد

دل حسن کو دان دے رہا ہوں

سلیم احمد

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

سلیم احمد

مشرق ہار گیا

کپلنگؔ نے کہا تھا سلیم احمد

میرا دشمن

اس نے جو ضرب لگائی مجھے بھرپور لگی سلیم احمد

میں سر چھپاؤں کہاں سایۂ_نظر کے بغیر

سلیم احمد

میں سر چھپاؤں کہاں سایۂ_نظر کے بغیر

سلیم احمد

آڈیو 18

میں سر چھپاؤں کہاں سایۂ_نظر کے بغیر

بن کے دنیا کا تماشا معتبر ہو جائیں_گے

بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے