Saleem Siddiqui's Photo'

سلیم صدیقی

1976

غزل 13

اشعار 15

اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

دوستو آؤ کہ کچھ خواب دکھاتے ہیں تمہیں

اب زمینوں کو بچھائے کہ فلک کو اوڑھے

مفلسی تو بھری برسات میں بے گھر ہوئی ہے

کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابت

مشورے کرتا ہے منصف جو گنہ گار کے ساتھ

عمر بھر جس کے لئے پیٹ سے باندھے پتھر

اب وہ گن گن کے کھلاتا ہے نوالے مجھ کو

آج رکھے ہیں قدم اس نے مری چوکھٹ پر

آج دہلیز مری چھت کے برابر ہوئی ہے

کتاب 2

آئینہ فن و شخصیت میں وقار مانوی

 

2010

تحریک سفر

 

2017