noImage

سردار آصف

سردار آصف

غزل 12

اشعار 12

یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک

اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے

میں خود کو دیکھوں اگر دوسرے کی آنکھوں سے

ملیں گی خامیاں اپنے ہی شاہ کاروں میں

ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے

دل میں ہیں کچھ زخم پرانے دھو لیں گے

خط ہو کوئی کتاب ہو یا دل کا زخم ہو

جو بھی ہے میرے پاس نشانی اسی کی ہے

خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے