Yasmeen Hameed's Photo'

یاسمین حمید

1951 | پاکستان

غزل 26

اشعار 19

ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں

وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی

چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے

اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں

جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

کتاب 5

دوسری زندگی

 

2007

حصار بے درو دیوار

 

1991

بنیاد

ن م راشد نمبر: شمارہ نمبر-001

2010

بنیاد

جلد-007

2014

 

ویڈیو 4

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
At a mushaira

یاسمین حمید

Hum ye bhool jaate hain

یاسمین حمید

Reciting own poetry

یاسمین حمید

Reciting own poetry

یاسمین حمید

آڈیو 5

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے