ظفر اقبال ظفر
غزل 20
اشعار 25
تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ
کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے
پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ
پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
موم کے لوگ کڑی دھوپ میں آ بیٹھے ہیں
آؤ اب ان کے پگھلنے کا تماشا دیکھیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ریت کا ہم لباس پہنے ہیں
اور ہوا کے سفر پہ نکلے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے