aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chamakne"
اشہد بلال ابن چمن
born.1980
شاعر
چمن لال چمن
1934 - 2019
ادیب سمیع چمن
چمن بھٹناگر
born.1925
چمن سیتاپوری
چمن آہوجہ
born.1933
رضیہ سلطانہ چمن دہلوی
مصنف
چمن لال سپرو
مدیر
چمن نہل
امیر حسین چمن
مطبع چمن ہند
ناشر
امدادالرشید چمن دہلوی
چمن کلینک، نئی دہلی
انوری چمن
چمن دہلوی
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانےآنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا
وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میںکیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے!ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے!ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
چمکنے والی ہے تحریر میری قسمت کیکوئی چراغ کی لو کو ذرا سا کم کر دے
चमकनाچَمَکْنا
ہندی
چمکانا کا لازم، روشنی دینا، روشن ہونا، جگمگانا، منور ہونا
छमकनाچَھمَکْنا
چمکنا
आँखें चमकनाآنکھیں چَمَکْنا
آنکھیں چمکانا کا لازم
नाम चमकनाنام چَمَکنا
۔ نیک نام ہونا۔ ؎
طاؤس چمن کی مینا
نیر مسعود
افسانہ
گردش رنگ چمن
قرۃالعین حیدر
ناول
روداد چمن
پیر محمد علی راشدی
چہار چمن
پنڈت چندر بھان برہمن
تاریخ
ویشیا کی ڈائری
چمن لال
کہانی
رضیہ کا شاہی دستر خوان
ہندوستانی تاریخ
بانو قدسیہ
خواتین کی تحریریں
آزادی
چہار چمن گلبرگہ شریف
نامعلوم مصنف
چشتیہ
اس کا بدن میرا چمن
کرشن چندر
ہوائے چمن میں خیمۂ گل
نذر سجاد حیدر
بھارچمن
اخلاقیات
پھول ایک ہی چمن کے
کوثر صدیقی
نظم
علی گڑھ میرا چمن
رفعت سلطان
نعت کی انجمن
قمر امینی
شاعری
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
یہ چاندنی میں دھلے پاؤں جب بھی رقص کریںفضا میں ان گنے گھنگرو چھنکنے لگتے ہیںیہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیںتو موسموں کے مقدر چمکنے لگتے ہیں
ہمارے حسن کی بجلی چمکنے والی ہےنہ جانے آج ہزاروں کا حال کیا ہوگا
قتل گہہ میں یہ چراغاں ہے مرے دم سے بشیرؔمجھ کو دیکھا تو چمکنے لگے خنجر سارے
تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریںابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا
سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کومیں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہئے مجھ کو
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
ہم اس ڈر سے کوئی سورج چمکنے ہی نہیں دیتےکہ جانے شب کے اندھیاروں سے کیا منظر نکلنا ہے
رحمت کا چمکنے کو ہے پھر نیر تاباںہونے کو ہے اس شب کی سحر دیکھ رہا ہوں
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books