aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "na.nge"
انیس ناگی
1939 - 2010
مصنف
شائستہ نگیں
مدیر
منظور ناگی
مترجم
دن نگا آچاریہ
ایس۔ بی۔ننگیا
ناشر
ناگی عبدالرزاق خاور
نانگ رام بھارگو
منشی ننھے لال عاجز
ننھے میاں
ننھے لال ورما
منشی ننہولال
نگین پبلیکیشنز، دہلی
نقش کوکن پبلی کیشن ٹرسٹ، بمبئی
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیےوہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
وہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہو
کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میںاچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے
گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلاننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا
اک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحے
زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے جس سے بعض اوقات بڑی بڑی انسانی تباہیاں ہوجاتی ہیں اور انسان کی اپنی سی ساری تیاریاں یونہی دھری رہ جاتی ہیں ۔ ہمارے منتخب کردہ یہ شعر قدرت کے مقابلے میں انسانی کمزوری اور بے بسی کو بھی واضح کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بے بسی سے پھوٹنے والے انسانی احتجاج اور غصے کو بھی ۔
नंगे نَنگے
ننگا کی جمع نیز مغیرہ حالت، تراکیب میں مستعمل
माँगे مانگے
مستعار یا ادھار لیا ہوا، مانگا ہوا، مانگا کی مغیرہ حالت، ترا کیب میں مستعمل
سنسکرت
रंगे رنگے
colored
नन्हे نَنّھے
۳۔ نادان ، ناسمجھ ، بھولے ، انجان ۔
ہندی
ننگے رہو
بابو پرتھی سنگھ
دیگر
برف پر ننگے پاؤں
شاہد اختر
افسانہ
ننگے پاؤں
آمنہ نازلی
ننگ خدمت
الطاف حسین حالی
مسدس
نقش فریادی
فیض احمد فیض
مجموعہ
پاکستان اردو ادب کی تاریخ
بغیر نقشے کا مکان
منور رانا
مضامین
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
نقش حیات
حسین احمد مدنی
خود نوشت
فلسطین سازشوں کے نرغے میں
مصطفیٰ طحان
تاریخ اسلام
بادشاہوں کی کہانیاں
نامعلوم مصنف
مشرق و مغرب کے نغمے
میراجی
تحقیق و تنقید
نغمے کا قتل
ہارپر لی
اصلاحی و اخلاقی
نانگا پربت بلتستان داستان
مستنصر حسین تارڑ
شعری لسانیات
تنقید
اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے
کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگ پیری ہے جوانی میری
پنجاب کے مشہور قانون داں چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھا۔ ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئےتو اقبال نے انہیں سرتاپا سیاہ دیکھ کر کہا،...
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیںہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
آشفتگی نے نقش سویدا کیا درستظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی
ہر بلاول ہے دیس کا مقروضپاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہےجیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی
ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہوہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
وہ ننگ آدمیت ہی سہی پر یہ بتا اے دلپرانے دوستوں کو اس طرح کیا چھوڑ دیتے ہیں
اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگننگے ہو جاتے ہیں بازار میں رہنے کے لیے
اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتارلفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی
ابتدا میں جنہیں ہم ننگ وفا سمجھے تھےہوتے ہوتے وہ گلے حسن بیاں تک پہنچے
ہوئی جنگ و حرب کی ابتدا تو بتاؤ بس یہی اک پتاکوئی تم میں ننگ وقار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books