aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ra.ng-e-shab-e-aish"
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
رنگ ادب پبلیکیشنز، کراچی
ناشر
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
شب نور پبلی کیشنز، کولکاتا
ادارۂ رنگ و نور، الہ آباد
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
شان زہرہ
ادارۂ سحاب
مکتبہ شان، حیدرآباد
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
کتب خانہ شان اسلام، لاہور
پادشاہ لکھنوی
1803 - 1837
مطبع فیض منبع شام اودھ
ادارہ شان، حیدرآباد
بن جائے نہ کیوں رنگ شب عیش کا اک عکس مسلسلمجبور اذیت
اے شب غم مرے مقدر کیتیرے دامن میں اک سحر ہوتی
آنکھوں میں حیا اس کے جب آئی شب وصلپلکوں پہ پلک اس نے گرائی شب وصل
دل دھڑکنے کی بھی آواز ہے ساکت ماہرؔاب نہیں کوئی شریک شب غم سو جاؤ
سیر شب لامکاں اور میںایک ہوئے رفتگاں اور میں
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
قصہ شب و روز
احتشام الحق آفاقی
لعل شب چراغ
ناول
دشت شب زندہ
محمود احمد سحر
چراغ شب افسانہ
آصف فرخی
افسانہ
مسائل شب برات و شب قدر
محمد رفعت قاسمی
چراغ شب تار
تصدق حسین
مجموعہ
بیاض شب و روز
ارمان نجمی
تنقید
آئینہ شب و روز
قاضی محمد عدیل عباسی
ڈائری
آئینۂ شب و روز
تحفۂ درد نیم شب
اشوک ساہنی ساحل
رہنمائے شب برات
مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپوری
اسلامیات
سوز شب غم
سلیم چودھری
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
دشت و روز وشب
میر ہاشم
دعائے نیم شب
دعا علی
خواتین کی تحریریں
بے نیاز شب تنہائی ہےآج بیمار کو نیند آئی ہے
شاہد رہیو تو اے شب ہجرجھپکی نہیں آنکھ مصحفیؔ کی
طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے
فسانہ ہائے شب غم ہے داستاں میریگئی نہ آہ کبھی سوئے آسماں میری
خواب شب پر کیف کی تعبیر تو دے گاکچھ اور نہیں اپنی وہ تصویر تو دے گا
اے شب فرقت نہ کر مجھ پر عذابمیں نے تیرا منہ نہیں کالا کیا
اے شب غم جو ہم بھی گھر جائیںشہر کس کے سپرد کر جائیں
اے شب ہجراں زیادہ پاؤں پھیلاتی ہے کیوںبھر گیا جتنا ہماری عمر کا پیمانہ تھا
کسی شکست خوردہ جواری کی طرح گردن جھکائے آہستہّ ہستہ سیڑھیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔ اس وقت وہ معمول سے زیادہ پریشان اور غمگین نظر آ رہا تھا۔ اس کے خشک اور منتشر بالوں نے اس کا حلیہ مزید بگاڑ رکھا تھا۔ ایسا...
لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیار
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books