aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHil.at"
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کیکرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیا کی
ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیںدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گادیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکرکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گاتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گاپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیںڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گادھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہدتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گالیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گاتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کاتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گاگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھردوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گاانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کامبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گادانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بندتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گاگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گےتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گاجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گیبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گاباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگربے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گااس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکنسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا
''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہےکوئی تو ہوگاجو خلعت انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہےکوئی تو ہوگاحجاب کو رمز نور کہتا ہے اور پرتو سے کھیلتا ہےکوئی تو ہوگا''''کوئی نہیں ہےکہیں نہیں ہےیہ خوش یقینوں کے خوش گمانوں کے واہمے ہیں جو ہر سوالی سے بیعت اعتبار لیتے ہیںاس کو اندر سے مار دیتے ہیں''''تو کون ہے وہ جو لوح آب رواں پہ سورج کو ثبت کرتا ہے اور بادل اچھالتا ہےجو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اور بطن صدف میں خورشید ڈھالتا ہےوہ سنگ میں آگ، آگ میں رنگ، رنگ میں روشنی کے امکان رکھنے والاوہ خاک میں صوت، صوت میں حرف، حرف میں زندگی کے سامان رکھنے والانہیں کوئی ہےکہیں کوئی ہےکوئی تو ہوگا''
برکھا آئی بادل آئےاوڑھے کالے کمبل آئےٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیںکالی کالی چھائیں گھٹائیںگرمی نے ڈیرا اٹھوایادھوپ پہ سایہ غالب آیابادل سے امرت جل برساامرت جل کیسا کومل برساہو گئی زندہ مردہ کھیتیڈھل گئے ذرے چمکی کھیتیدریا اور سمندر ابھرےتازہ موجیں لے کر ابھرےباغوں میں سبزہ لہرایاپھولوں کلیوں میں رس آیاپھر شاخوں نے خلعت پہنیپھر پائے ہریالے گہنےپھول کھلے کلیاں لہرائیںکونپلیں پھر شاخوں میں آئیںموتی بادل نے برسائےپتوں نے دامن پھیلائےتالابوں میں مینڈک بولےسیپوں نے منہ اپنے کھولےبادل گرجا بجلی چمکیآئی صدا رم جھم رم جھم کی
پھر اپنے تن میں جو پہنا وہ خلعت رنگیںسبھوں کو حکم کیا تم بھی پہنو اب یوں ہیںہزاروں لڑکوں نے پہنے وہ جوڑنے پھر ووں ہیںپکاری خلق کہ انصاف چاہئے یوں ہیںہوا پھر اور ہی حسن و جمال ہولی میں
انہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں ماضی میں جیتی ہوںمرے اشعار میں آسیب ہیں گزرے زمانوں کےوہ کہتے ہیں کی یادیں سائے کی مانند میرے ساتھ رہتی ہیںیہ سچ ہے اس سے کب انکار ہے مجھ کومیں اکثر جاگتے دن میں بھی آنکھیں موند لیتی ہوںکوئی صورت کوئی آواز کوئی ذائقہ یا لمس جب جادو جگاتا ہےتو گرد آلود مینا طور تصویریں اچانک بولنے لگتی ہیں ناٹک منچ سجتا ہےکسی ٹوٹے ہوئے صندوق میں رکھے ہوئےبوسیدہ مخطوطے سے کوئی داستاں تمثیل بن جاتی ہےجی اٹھتے ہیں سب کردار ماضی کےسپاہی بادشاہ خلعت نوادر رقص و موسیقیکسی کے پاؤں میں پائل دھنک آنچلکسی شمشیر کی بجلی گھنی برسات کی بدلیکسی بارہ دری میں راگ دیپک کاکسی صحن گلستاں میں کدم کے پیڑ پر بیٹھی ہوئی چڑیاںاچانک جاگ جاتی ہیںکسی گمنام قصبے میں کوئی ٹوٹی ہوئی محراب خستہ حال ڈیوڑھی کی جھلکمعدوم کر دیتی ہے ہوٹل چائے خانے بس کے اڈے ڈھیر کوڑے کےکئی صدیاں گزر جاتی ہیں سر سےاور کوئی گم گشتہ شہر رفتگاں بیدار ہوتا ہےاسی منظر کا حصہ بن کے میں تصویر ہو جاتی ہوں کھو جاتی ہوں ماضی میںمیں اکثر آبنائے وقت پر کاغذ کی ناؤ ڈال دیتی ہوںتو پانی اپنا رستہ موڑ دیتا ہےمیں جب چاہوںسلونی سانولی نٹ کھٹ مدھر یادیں اٹھا لاؤں لڑکپن کے گھروندوں سےمیں جب چاہوں تو کالی کوٹھری میں قیدرنجیدہ پشیماں زخم خوردہ ساعتوں بیتے دنوں کو پیار سے چھو کردلاسہ دوں تھپک کر لوریاں دوںخوب روؤں خوب روؤں شانت ہو جاؤںیہ ماضی میرا ماضی ہےفقط میرے تصرف میں ہےمیری ملکیت ہے میرا ورثہ ہےنہ میرا حال پر بس ہےاور آنے والا کل بھی کس نے دیکھا ہے
نمی دے کر جو مٹی کومسلسل گوندھتے ہو تمبتاؤ کیا بناؤ گےکوئی کوزہ کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورتسخنور ہوں کہو تو مشورہ اک دوںیہ گھاٹے کا ہی سودا ہےیہاں مٹی کی مورت کی اگر آنکھیں بناؤ گےتمہیں آنکھیں دکھائے گیتراشو گے زبان اس کی تو ترشی جھیل پاؤ گےاگر جو دل بنایا تو ہزاروں خواہشیں بن کر تمہیں تم سے ہی مانگے گیعطائے خلعت احمر اسے خود سر بنا دے گیوہاں اپنی محبت کا جو نادر تاج پہنایاخدا خود کو ہی سمجھے گیابھی بھی وقت ہے مانوارادہ ملتوی کر دواسے مٹی ہی رہنے دواسے مٹی ہی رہنے دو
ذروں میں جنبش تھی کوئی چھائی تھی فضا پر مدہوشیاک نیند تھی ہر شے پر طاری قدرت بھی تھی محو خاموشیروشن نہ ستارے تھے اوپر ویران فلک کی بستی تھیلالہ نہ زمیں پر کھلتا تھا بے رنگ نگار ہستی تھیآہیں نہ لبوں پر آتی تھیں مضطر نہ تنوں میں جانیں تھیںدل میں نہ امنگیں اٹھتی تھیں جذبات کی بند زبانیں تھیںتھا حسن تخیل میں اب تک خلعت نہ ملا تھا صورت کابیتاب نگاہیں تھیں ساری وا در نہ ہوا تھا جنت کا۲جب روز ازل کی صبح ہوئی اک نور کا دریا لہرایافطرت کے اٹھے پردے سارے بیدار جہان راز ہواساحل کا سکوں دھارے کی تڑپ بے تابیاں موج طوفاں کیامرت بھری شبنم کے قطرے رنگینیاں باغ رضواں کیپھولوں کی مہک کندن کی دمک بجلی کے شراروں کی چمکیںشام اور سحر کے حسیں جلوے تاروں کے تبسم کی جھلکیںخلاق زماں نے ان سب کا ست کھینچ کے مٹی پر چھڑکاطبقات زمیں میں ہوئی ہلچل اک پھول کنول کا پھبک اٹھاپھر بطن سے ان کے اک دیوی پیدا ہوئی بزم امکاں میںرکھا گیا نام عورت اس کا خوشیاں ہوئیں باغ رضواں میں
مخاطبآسماں ہے یا زمیںمعلوم کر لیناکہ دونوں کے لیے تشبیب کےمصرعے الگ سے ہیںکہیں ایسا نہ ہوکہ آسماں بدظنزمیں ناراض ہو جائےقصیدے میں گریز ناروا کاموڑ آ جائےترے سر پہ کوئی الزام عائد ہوکہ تو بھی عندلیب گلشن نا آفریدہ ہےسخن فہمی تری گنجلکبیاں ابہام دیدہ ہےیہ مشورہ اس لیے دیتا ہوںجان منکہ گردش میں گھرا ہے آسماںبرہم طبق سارےزمیں بھی اپنے محور سے الگ چکر لگاتی ہےقصیدہ سوچ کے لکھناکہیں انعام و خلعت کی جگہکاسہ نہ بھر جائےملامت سےخجالت سےندامت سے
اس کون و مکاں کی دہلیز عبور کرنے سے پہلےشرابور بدن کو پونچھے بغیر اپنی مصیبتوں کا زمیں ایسا بوجھ اتارے بغیرہم اپنے لہو کا محصول ادا کر چکے ہیںہم جو ستارہ شناس ہیں ہم جو پرندوں کی یک اڑان سے موسموںکا مزاج بھانپ لیتے ہیں ہم جو آئینوں میں چٹختی ہوئی تہذیبوں کی تشخیص کا رازجانتے ہیں جو رک رک کر چلتی ہواؤں سسکتے سمندروں کے شور سےگلیوں میں ہجوموں کی آہ و بکا سے بھیانک خوابوں سے اوجھل تعبیروںسے ماورا مقدروں اور سلطنتوں کا قیافہ لگاتے ہیںلیکن اپنے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوئے ایک مفتوح کی طرحتاریخ کے ایک مفرور کی طرح تھکے ہارے دریدہ کپڑوں میں ملبوس بدنپر زخموں کی مہر لئے شکستہ برہنہ شمشیر کا سہارا لئے اس دہلیز کو عبورکرتے ہیںآہ ہم نے قدیم تہذیبوں میں نئے تمدنوں میں اسلحے کےکارخانوں میں رسوا عورتوں کے شبستانوں میں بنکوں کی تجوریوں میںمدرسوں کے معلموں کی آوازوں میں پناہ لیلیکن ہمارے لئے کہیں بھی جائے پناہ نہیں تھی کہ ہر لمحے ہمارے قیامکا راز دوسرے کے لئے اضطراب بن جاتاکون جانتا ہے کہ اس دہلیز کے پار کتنی تنہائیاں ہمیںمسمار کرنے کے لئے ہمیں دیوانگی کی خلعت دینے کے لئے انتظارمیں ہیںہم بھیس بدل چکے ہیں کہ بد نصیبی ہمارے تعاقب میں خاک اڑاتی ہوئیہمارے نقش پا کی زنجیر جوڑتے ہوئے پھر ہمیں حصار میں نہ لے سکےاور ہم لمحہ بھر کے لئے اپنی بحالی کی خاطر پھڑپھڑاتے نقشہ پرچہپر اضطراب رکھے ہوئے کوتاہیوں کو قوت میں بدلنے کی سوچ میں غلطاں ہیںلیکن دوسرے پتھروں پر گھوڑوں کے سم چنگاریاں برساتےہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ترکش میں صرف ایک ہی تیر ہےاپنے لئے اور ان کے لئے
جب ساون بادل چھائے ہوںجب پھاگن پھول کھلائے ہوںجب چندا روپ لٹاتا ہوجب سورج دھوپ نہاتا ہویا شام نے بستی گھیری ہو
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلقنہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئییوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھولنہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئیاسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتےترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
جی چاہتا ہے اک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریںآنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریںخلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں وحدت کو دوئی سے شاد کریں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو جسموں کی تجارت ہونے لگیخلوت میں بھی جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books