aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gaa"
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوطزمیں حسین ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
گر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہےاے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہےکیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہےکیا داکھ منقےٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتاکوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لےجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتامتاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربطمیں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتاوہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ہٹ نہیں سکتےملا ہے درد وہ دل کو کہ دل سے جا نہیں سکتاہوس کاری ہے جرم خودکشی میری شریعت میںیہ حد آخری ہے میں یہاں تک جا نہیں سکتانہ طوفاں روک سکتے ہیں نہ آندھی روک سکتی ہےمگر پھر بھی میں اس قصر حسیں تک جا نہیں سکتاوہ مجھ کو چاہتی ہے اور مجھ تک آ نہیں سکتیمیں اس کو پوجتا ہوں اور اس کو پا نہیں سکتایہ مجبوری سی مجبوری یہ لاچاری سی لاچاریکہ اس کے گیت بھی دل کھول کر میں گا نہیں سکتازباں پر بے خودی میں نام اس کا آ ہی جاتا ہےاگر پوچھے کوئی یہ کون ہے بتلا نہیں سکتاکہاں تک قصۂ آلام فرقت مختصر یہ ہےیہاں وہ آ نہیں سکتی وہاں میں جا نہیں سکتاحدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نےکہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتا
مرے چہرے پہ جب بھی فکر کے آثار پائے ہیںمجھے تسکین دی ہے میرے اندیشے مٹائے ہیںمرے شانے پہ سر تک رکھ دیا ہے گیت گائے ہیںمری دنیا بدل دیتی ہیں خوش الحانیاں اس کی
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میںکون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میںدل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیںاور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میںدفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کواور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میںمیں قسم کھاتا ہوں اپنے نطق کے اعجاز کیتم کو بزم ماہ و انجم میں بٹھا سکتا ہوں میںسر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاںمحفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میںمیں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطےدل بجھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچا سکتا ہوں میںتم اگر روٹھو تو اک تم کو منانے کے لئےگیت گا سکتا ہوں میں آنسو بہا سکتا ہوں میںجذب ہے دل میں مرے دونوں جہاں کا سوز و سازبربط فطرت کا ہر نغمہ سنا سکتا ہوں میںتم سمجھتی ہو کہ ہیں پردے بہت سے درمیاںمیں یہ کہتا ہوں کہ ہر پردہ اٹھا سکتا ہوں میںتم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظرمجھ کو یہ دعویٰ کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میںآؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریںدہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں
اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیمیں کہاں تک بھولوں؟زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھیکہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیاتجھے حیرت نہ ہوئی!کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پراس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہتتجھے حیرت نہ ہوئی!اے جہاں زاد،میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرفاب جو بغداد سے لوٹا ہوںتو میں سوچتا ہوںسوچتا ہوں تو مرے سامنے آئینہ رہیسر بازار دریچے میں سر بستر سنجاب کبھیتو مرے سامنے آئینہ رہیجس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھےاپنی ہی صورت کے سوااپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا!لکھ رہا ہوں تجھے خطاور وہ آئینہ مرے ہاتھ میں ہےاس میں کچھ بھی نظر آتا نہیںاب ایک ہی صورت کے سوا!لکھ رہا ہوں تجھے خطاور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سےخط کیوں نہ لکھوں؟اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیمجھے پھر لائے گی؟وقت کیا چیز ہے تو جانتی ہے؟وقت اک ایسا پتنگا ہےجو دیواروں پہ آئینوں پہپیمانوں پہ شیشوں پہمرے جام و سبو میرے تغاروں پہسدا رینگتا ہے
زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئیجو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائیپہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کےگیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کےاٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئےجو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئےہوئی انگور کی بیٹی سے ''مستی خان'' کی شادیکھلے در مے کدوں کے اور ملی رندوں کو آزادینوید کامرانی لا رہے ہیں ریس کے گھوڑےمسرت کے ترانے گا رہے ہیں ریس کے گھوڑےمبارک ہو کہ پھر سے ہو گیا ''ڈانس'' اور ''ڈنر'' چالوخلاص اہل نظر ہوں گے ہوا درد جگر چالونماز عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے ہیںاور ان کے ساتھ سارے طالب دیدار آئے ہیںیہی دن اہل دل کے واسطے امید کا دن ہےتمہاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاندعکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گےعرش کے دیدۂ نمناک سے باری باریسب ستارے سر خاشاک برس جائیں گےآس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میںاپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئیبے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقتاس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئیترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقتاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گےاس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دوکوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دواور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگےاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےمجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہےمری فطرت کو خوں ریزی کے افسانے سے رغبت ہےمری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کیمرا محبوب نغمہ شور آہنگ بغاوت ہےمگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کومیں جب تاروں پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوںتصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیںتو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوںکوئی خوابوں میں خوابیدہ امنگوں کو جگاتی ہےتو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں پاتا ہوںمیں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہےمرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں سکتامجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نےمرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتاجواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہےمری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتامری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کوغریبوں مفلسوں کو بے کسوں کو بے سہاروں کوسسکتی نازنینوں کو تڑپتے نوجوانوں کوحکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کوکسی کے چیتھڑوں کو اور شہنشاہی خزانوں کوتو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتامیں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیںیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیںوہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپالبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیںوہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنممیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیںخرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیںقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیںشباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیںتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیںتمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظرسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیںبہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیاتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیںطیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گلسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیںشراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہےچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیںخود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیںخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیںفضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہےوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیںزمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیںوہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنمیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیںیہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہےگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیںیہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجمذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیںفضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہےسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیںاب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پرہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیںیہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غممگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیںذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلیطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیںخوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہےیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہےسحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہےروش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہےطیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہےستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانےنگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ہےطیور بزم سحر کے مطرب لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیںنسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہےکلی پہ بیلے کی کس ادا سے پڑا ہے شبنم کا ایک موتینہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے کوئی پری مسکرا رہی ہےسحر کو مد نظر ہیں کتنی رعایتیں چشم خوں فشاں کیہوا بیاباں سے آنے والی لہو میں سرخی بڑھا رہی ہےشلوکا پہنے ہوئے گلابی ہر اک سبک پنکھڑی چمن میںرنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہےفلک پہ اس طرح چھپ رہے ہیں ہلال کے گرد و پیش تارےکہ جیسے کوئی نئی نویلی جبیں سے افشاں چھڑا رہی ہےکھٹک یہ کیوں دل میں ہو چلی پھر چٹکتی کلیو؟ ذرا ٹھہرناہوائے گلشن کی نرم رو میں یہ کسی کی آواز آ رہی ہے؟
تم گئے ہو اکیلا کر کے مجھےکر دیا زندہ تم نے مر کے مجھے
خلوت و جلوت میں تم مجھ سے ملی ہو بارہاتم نے کیا دیکھا نہیں میں مسکرا سکتا نہیںمیں کہ مایوسی مری فطرت میں داخل ہو چکیجبر بھی خود پر کروں تو گنگنا سکتا نہیںمجھ میں کیا دیکھا کہ تم الفت کا دم بھرنے لگیںمیں تو خود اپنے بھی کوئی کام آ سکتا نہیںروح افزا ہیں جنون عشق کے نغمے مگراب میں ان گائے ہوئے گیتوں کو گا سکتا نہیںمیں نے دیکھا ہے شکست ساز الفت کا سماںاب کسی تحریک پر بربط اٹھا سکتا نہیںدل تمہاری شدت احساس سے واقف تو ہےاپنے احساسات سے دامن چھڑا سکتا نہیںتم مری ہو کر بھی بیگانہ ہی پاؤگی مجھےمیں تمہارا ہو کے بھی تم میں سما سکتا نہیںگائے ہیں میں نے خلوص دل سے بھی الفت کے گیتاب ریاکاری سے بھی چاہوں تو گا سکتا نہیںکس طرح تم کو بنا لوں میں شریک زندگیمیں تو اپنی زندگی کا بار اٹھا سکتا نہیںیاس کی تاریکیوں میں ڈوب جانے دو مجھےاب میں شمع آرزو کی لو بڑھا سکتا نہیں
اپنی سوئی ہوئی دنیا کو جگا لوں تو چلوںاپنے غم خانے میں اک دھوم مچا لوں تو چلوںاور اک جام مئے تلخ چڑھا لوں تو چلوںابھی چلتا ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوںجانے کب پی تھی ابھی تک ہے مئے غم کا خماردھندلا دھندلا نظر آتا ہے جہان بیدارآندھیاں چلتی ہیں، دنیا ہوئی جاتی ہے غبارآنکھ تو مل لوں ذرا ہوش میں آ لوں تو چلوںوہ مرا سحر وہ اعجاز کہاں ہے لانامیری کھوئی ہوئی آواز کہاں ہے لانامرا ٹوٹا ہوا وہ ساز کہاں ہے لانااک ذرا گیت بھی اس ساز پہ گا لوں تو چلوںمیں تھکا ہارا تھا، اتنے میں جو آئے بادلکسی متوالے نے چپکے سے بڑھا دی بوتلاف وہ رنگین پر اسرار خیالوں کے محلایسے دو چار محل اور بنا لوں تو چلوںمجھ سے کچھ کہنے کو آئی ہے مرے دل کی جلنکیا کیا میں نے زمانے میں نہیں جس کا چلنآنسوؤ تم نے تو بے کار بھگویا دامناپنے بھیگے ہوئے دامن کو سکھا لوں تو چلوںمیری آنکھوں میں ابھی تک ہے محبت کا غرورمیرے ہونٹوں کو ابھی تک ہے صداقت کا غرورمیرے ماتھے پہ ابھی تک ہے شرافت کا غرورایسے وہموں سے ذرا خود کو نکالوں تو چلوں
دھیمے سروں میں گنگا یہ گیت گا رہی ہےجمنا بھی اپنے منہ میں یہ گنگنا رہی ہےہندوستان میرا، ہندوستان میرا
فلک گا رہا ہے زمیں گا رہی ہےکلیجے میں ہر لے چبھی جا رہی ہےمجھے پا کے اس مست شب میں اکیلایہ رنگیں گھٹا تیر برسا رہی ہے
دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجوہ سر اٹھائے موج فنا آ رہی ہے آجموج حیات موت سے ٹکرا رہی ہے آجکانوں میں زلزلوں کی دھمک آ رہی ہے آجہر چیز کائنات کی تھرا رہی ہے آججھپکا رہی ہے دیر سے آنکھیں ہوائے دہرکون و مکاں کو نیند سی کچھ آ رہی ہے آجہر لفظ کے معانی و مطلب بدل چکےہر بات اور بات ہوئی جا رہی ہے آجیکسر جہان حسن بھی بدلا ہوا سا ہےدنیائے عشق اور نظر آ رہی ہے آجہر ہر شکست ساز میں ہے لحن سرمدییا زندگی کے گیت اجل گا رہی ہے آجیہ دامن اجل ہے کہ تحریک غیب ہےکیا شے ہوائے دہر کو سنکا رہی ہے آجابنائے دہر لیتے ہیں یوں سانس گرم و تیزجینے میں جیسے دیر ہوئی جا رہی ہے آجافلاک کی جبیں بھی شکن در شکن سی ہےتیوری زمین کی بھی چڑھی جا رہی ہے آجپھر چھیڑتی ہے موت حیات فسردہ کوپھر آتش خموش کو اکسا رہی ہے آجبرہم سا کچھ مزاج عناصر ہے ان دنوںاور کچھ طبیعت اپنی بھی گھبرا رہی ہے آجاک موج دود سینے میں لرزاں ہے اس طرحناگن سی جیسے شیشے میں لہرا رہی ہے آجبیتے جگوں کی چھاؤں ہے امروز پر فراقؔہر چیز اک فسانہ ہوئی جا رہی ہے آج
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books