aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kirshn-chandr"
ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میںگھروں کے سپنے ہیں نامکملابھی تو رستے طویل ہیںراہ میں گڈھے ہیںابھی تو جنگیں ہیںسرحدیں ہیںمہاجرت ہےابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہےابھی شکستیں ہیں چار جانبابھی محبت برہنہ پا ہےابھی ہے شہر بتاں کا مرکزبہت سا ریشمبہت سی چاندیبہت سا سوناابھی تو انسان تل رہا ہےابھی ہوائیں جلا وطن ہیںابھی ہے خوشبو گریز پاکہر ہے دھواں ہےابھی سرنگیں ہیں لمبی لمبیاور ان سرنگوں کے پار کیا ہےکسے پتا ہےکہ اب وہ آنکھیں نہیں رہیں جن میں روشنی تھی
دریا ہیں میرؔ و غالبؔ ہر لب پہ جو رواں ہیںفیضؔ و فراقؔ اور داغؔ ہر دل پہ حکمراں ہیںاور کرشنؔ چندر منٹوؔ زندہ کہانیاں ہیںلفظوں کے آئنے میں حسن بیاں کا جادو
جگمگائیں ترے نور کی بھیک سےچاند تارے کرن چاندنی کہکشاں
یہ صبح اب بھی ہے اتنی رنگیںاسی لگن سے لطیف کرنوں کا جال اب بھیبچھا رہا ہے حسین سورجلٹا رہی ہےیہ سندھیا اب بھی سیندور ہر سویہ چاند اب بھی مٹھاس دھرتی کو دے رہا ہےبکھیرتے ہیں شمیم دلکش نسیم کے جاں نواز جھونکےوشال آکاش میں دھنک کی ضیا کا جادو نکھر گیا ہےمگر یہ سارے مناظر دل فریب میرے اتھاہ غم کو مٹا نہ پائے
چمپئی دھوپ میں ہر ذرہ ہے سورج کی کرنچاندنی رات میں ہر پھول ہے روشن روشن
اے سنسار بنانے والےسورج کو چمکانے والےخاک سے پھول اگانے والےدریاؤں کو بہانے والےمیرے خالق میرے آقاہنستا ہنستا چاند نکالاٹھنڈی ٹھنڈی کرنوں والاکرتا ہے راتوں کو اجالاتو نے بخشا اس کو اجالامیرے خالق میرے آقاماں کی محبت باپ کا سایہمیں نے تیرے کرم سے پایابھائی بہن کا پیار دکھایاکیسا اچھا رشتہ بنایامیرے خالق میرے آقااچھا لڑکا مجھ کو بناناسیدھے رستے مجھ کو چلاناجس نے کہا ہے تیرا ماناسب نے اس کو اچھا جانامیرے خالق میرے آقاتجھ کو پوجوں تجھ کو جانوںحکم ترا خوش ہو کر مانوںعقل وہ دے تجھ کو پہچانوںگمراہی کی خاک نہ چھانوںمیرے خالق میرے آقا
چاہتوں کا جہان ہے اردوراحتوں کا نشان ہے اردوعشق کا اعتبار اور وقارحسن کی آن بان ہے اردودل فزا ضو کدہ صباحت کااور ملاحت کی کان ہے اردونثر کا ہے خرام خوش ہنگامشاعری کی اڑان ہے اردوزندہ ہے اپنا ذوق و شوق اس سےآرزوؤں کی جان ہے اردولطف ہستی کا رنگ مستی کاخوش نما کاروان ہے اردوذکر آرائش خم کاکلکیف ہندوستان ہے اردودفتر اتحاد و یک جہتیپیار کی داستان ہے اردوایکتا ہے انیکتا میں بھیدوست داری کا مان ہے اردوغالبؔ و میرؔ اس کے شیدا تھےجن کی روح روان ہے اردوآتشؔ و مومنؔ و نظیرؔ و جگرؔجن کی رنگیں زبان ہے اردواس کے عاشق نسیمؔ اور چکبستؔجن کے جذبوں کی شان شان ہے اردودوست اس کے سرورؔ اور سرشارؔاس لئے شادمان ہے اردودرد مند اس کے پریم چندؔ رہےجن کے باعث جوان ہے اردواس کے مشتاق ملاؔ اور فراقؔجن کے دل کا بیان ہے اردونعرہ زن جوشؔ کا خروش اس میںجوش کی ترجمان ہے اردوفیضؔ و اقبالؔ و کرشن چندر سےوسعت بے کران ہے اردودھوم محرومؔ کی ہوئی اس میںاور منورؔ کی آن ہے اردوراشدؔ و میراجیؔ کی البیلیشوخ ادا راز دان ہے اردوفطنت و فن کی دولت بیدارکرشن موہنؔ کی جان ہے اردو
ڈستی ہیں سورج کی کرنیں چاند جلائے جانپگ پگ موت کے گہرے سائے جیون موت سمانچاروں اور ہوا پھرتی ہے لے کے تیر کمانبگیا لہولہان
پھر بھی اک لمحے کی فرصت جو میسر آئےدل وہیں چپکے سے دھڑکن کو جگا دیتا ہےتار راتوں میں بکھرتی ہیں روپہلی کرنیںچاندنی پچھلی ملاقاتوں کے آئینے میںروز آئندہ سے ملتی ہے گلےکہتی ہے
وائے تقدیر میں گدھا نہ ہواہم نوا کرشن چندر کا نہ ہواماسٹر کی پلک جھپکتے ہیحاضری دے کے میں روانہ ہواوہی آیا سوال پرچے میںایک دن کا بھی جو پڑھا نہ ہواکھیل بھی ہم سکے نہ جی بھر کےکھیلنے کا بھی حق ادا نہ ہوامدتوں اپنے ماسٹر جی سےمدرسے میں بھی سامنا نہ ہوامیں وہ دادا ہوں سب کو مار کے بھیآج تک قابل سزا نہ ہواکیفؔ میدان شعر گوئی میںکوئی غالبؔ سا دوسرا نہ ہوا
میں کہ اک جنت ارضی سے چلا آیا ہوںبیتی یادوں کی مہک دل میں چھپا لایا ہوںجس جگہ کوثر و تسنیم کی نہریں تھیں رواںجس جگہ اپنی تمناؤں کی دنیا تھی جواںنور ایمن تھا ثریا کی نگاہوں میں جہاںشاخ نسرین تھی فرحین کی بانہوں میں جہاںجس جگہ فرحت و نزہت کی ہوا چلتی تھیبن کے تزئین در و بام صبا چلتی تھیلب خاموش سے پھوٹا تھا ترنم جس جامیرے ہونٹوں نے بھی سیکھا تھا تبسم جس جانیلگوں آنکھوں سے ٹپکے ہوئے تاروں کی کرنچند بیتے ہوئے لمحات کی یادوں کی جلنمیں اسی گمشدہ جنت سے چرا لایا ہوںمیں کہ اک جنت ارضی سے چلا آیا ہوں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
جب سورج اپنی کرنوں کیچادر کو سمیٹےدور افق کے پار کہیں چھپ جاتا ہےاور چاند ستارےآوارہ بادل کے ٹکڑوں کے ہم راہجب آنکھ مچولی کھیلتے ہیںتب دل کے گھور اندھیروں میںکہیں دور کسی گہرائی میںتری یادوں کے ننھے جگنومرے دل کے اس اندھیارے کواجلانے کی کوشش کرتے ہیں
سنا ہے چاند ہے سونے کا انڈاسنا ہے چاند کا موسم ہے ٹھنڈاسنا ہے چاند میں ہیں خاک پتھرسنا ہے چاند میں ہیں لعل و گوہرمگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ہےسنا ہے چاند کے لب سرخ سنہرےسنا ہے چاند میں ہیں غار گہرےسنا ہے چاند میں چاندی کے دریابہت سندر بہت انمول بڑھیامگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ہےسنا ہے چاند ہے ماموں ہماراہمیشہ چندا ماموں ہی پکاراخلا میں پست ہے بالا ہوا ہےزمیں کی گود کا پالا ہوا ہےمگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ہےوہ دن وہ رات وہ سورج وہ تارےوہ ٹیلے وادیاں دریا کنارےندی وہ نور کی کرنوں کی نیاسنا ہے چاند میں سب کچھ ہے بھیامگر وہ چاند کی بڑھیا کہاں ہے
تم ندی پر جا کر دیکھوجب ندی میں نہائے چاندکیسی لگائی ڈبکی اس نےڈر ہے ڈوب نہ جائے چاندکرنوں کی اک سیڑھی لے کرچھم چھم اترا جائے چاندجب تم اسے پکڑنے جاؤپانی میں چھپ جائے چانداب پانی میں چپ بیٹھا ہےکیا کیا روپ دکھائے چاندچاہے جدھر کو جاؤ افسرؔساتھ ہمارے جائے چاند
کھیتوں میں جو چاند اگے ہیںان کی کرنیںدھاگوں کی مانندہمارے گرد لپٹتی جاتی ہیںشہروں میں جو آگ لگی ہےاس کی لپٹیںشعلوں کی مانند لپٹتی جاتی ہیںبس جنگل میں آزادی ہے
افق کے دریچے سے کرنوں نے جھانکافضا تن گئی راستے مسکرائے
یاد کی کرنیں پریاں بن کراپنی باہوں میں لپٹا کرتیرا چاند سا سندر مکھڑاسوچوں کے بے نور کھنڈر میں در آتی ہیںاور میں سوچ کے تپتے تھل میںتیرے ساتھ گزاری شامیںایک اک کر کے گنتا ہوںجب میں تنہا ہوتا ہوں
چار دن کی چاندنیکے سلسلے میںمرا نوحہسنتے سنتےچاند نے کلڈوبنے سے قبلمجھ سے یہ کہاچشم تر کے جگنوؤں سےجو کرن بھی پھوٹ نکلےبس اسے ہیعصر نو کیتیرگی میںگھولنے کیڈھونڈتے رہنا سبیل
اجل اجل کومل کومل چمکیلا چمکیلا چاندنئی نویلی دلہن جیسا شرمیلا شرمیلا چاندوہ دیکھو وہ مسکاتا بل کھاتا لے کر انگڑائیاک بادل کی اوٹ سے نکلا چنچل شوخ سجیلا چانداجلی رنگت گورا مکھڑا اس پہ روپہلی ہے پوشاکتاروں کے جھرمٹ میں کیسا لگتا ہے بھڑکیلا چاندروپ انوپ کی ناؤ پہ بیٹھا کرنوں کی پتوار لئےنیل گگن میں تیر رہا ہے سندر چھیل چھبیلا چاندہم بھی چور سپاہی لک چھپ آنکھ مچولی کھلیں گےتاروں کے سنگ کھیل رہا ہے اونچا نیچا ٹیلہ چاندامی میرا چاند تو دیکھو بالو شاہی جیسا ہےنکہت باجی کا ہے کیسا کڑوا اور کسیلا چاندکرنوں کی سیڑھی کے سہارے چھت پر تو آ پہنچا ہےآنگن میں پانی نہ گراؤ ہو جائے گا گیلا چاندچندا ماموں چندا ماموں کہتے کہتے منہ سوکھےپھر بھی اپنے پاس نہ آئے ضدی اور ہٹیلا چاندمنا آغوں آغوں کر کے جب بھی اپنے پاس بلائےدھم سے آنگن میں آ کودے اخترؔ رنگ رنگیلا چاند
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books