aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "night"
تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثترے ہاتھ ہیںجن کو تو نے ہمیشہ لبوں پر رکھا مسکراتے ہوئےتو نہیں جانتینیند کی گولیاں کیوں بنائی گئیںلوگ کیوں رات کو اٹھ کے روتے ہیں سوتے نہیںتو نے اب تک کوئی شب اگر جاگتے بھی گزاریتو وہ باربی نائٹ تھیتجھ کو کیسے بتاؤںکہ تیری صدا کے تعاقب میںمیں کیسے دریاؤں صحراؤں اور جنگلوں سے گزرتا ہواایک ایسی جگہ جا گرا تھاجہاں پیڑ کا سوکھنا عام سی بات تھیجہاں ان چراغوں کو جلنے کی اجرت نہیں مل رہی تھیجہاں لڑکیوں کے بدن صرف خوشبو بنانے کے کام آتے تھےجہاں ایک معصوم بچہ پرندے پکڑنے کے سارے ہنر جانتا تھامجھ کو معلوم تھاتیرا ایسے جہاں ایسی دنیا سے کوئی تعلق نہیںتو نہیں جانتیکتنی آنکھیں تجھے دیکھتے دیکھتے بجھ گئیںکتنے کرتے ترے ہاتھ سے استری ہو کے جلنے کی خواہش میں کھونٹی سے لٹکے رہےکتنے لب تیرے ماتھے کو ترسےکتنی شہراہیں اس شوق میں پھٹ گئی ہیںکہ تو ان کے سینے پہ پاؤں دھرےمیں تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈھتے تھک گیا ہوںاب مجھے تیری موجودگی چاہیےاپنے ساٹن میں سہمے ہوئے سرخ پیروں کو اب میرے ہاتھوں پہ رکھمیں نے چکھنا ہے ان کا نمک
نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہےامید نے دامن جھٹک کردہلیز پر اونگھتی ہوئی آنکھوں کے ہاتھ زخمی کر دئیے ہیںانتظاراپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہےاب میں سو جانا چاہتا ہوںنیند سے میری آنکھیں بند ہو رہی ہیںہاںصبح اگر میری آنکھیں نہ کھل سکیںتو مجھے معاف کر دینا
نئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!کتنے نوخیز و حسیں جسم یہاں چاروں طرفرقص میں محو ہیں عریانی کی تصویر بنےاپنی رعنائی و زیبائی کی تشہیر بنےساز پرجوش کی سنگت میں تھرکتے جوڑےفرش مرمر پہ پھسلتے ہیں بہک جاتے ہیںدوڑتی جاتی ہے رگ رگ میں شراب گلفامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام!ان کی آنکھوں سے چھلکتی ہے ہوس کی مستیان کے سینوں میں فروزاں ہیں وہ جنسی شعلےجن کی اک ایک لپٹ سے ہے بھسم شرم و حیاقہقہے، ساز کی تانوں میں ڈھلے جاتے ہیںلمس کی آگ میں سب جسم جلے جاتے ہیںآنکھ کے ڈوروں میں پوشیدہ ہیں مبہم سے پیامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلامدھڑکنیں تیز ہوئیں شوق کی لے بڑھنے لگیجسم پر تنگی ملبوس ذرا اور بڑھیآنکھ میں نشے کی اک لہر ذرا اور چڑھیلرزش پا سے جھلکنے لگی دل کی لغزش!دفعتاً جاز کی پرجوش صدا بند ہوئیروشنی ڈوب گئی پھیل گئی ظلمت شب۔۔۔۔جسم سے جسم کی قربت جو بجھانے لگی آگدوپہر ڈھل گئی جذبات کی ہونے لگی شامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلامجل گیا سینۂ سوزاں میں ہی انساں کا ضمیرروح کی چیخ فضاؤں میں کہیں ڈوب گئیرخ تہذیب پسینے میں شرابور ہواعلم ہے سر بہ گریباں و ادب مہر بہ لبکس سے اس دور جراحت میں ہو مرہم کی طلبملک تہذیب میں چنگیز ہے پھر خوں آشامنئی تہذیب کے شہکار عظیم!تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام
رات کا وقت ہےکوئی آہٹ نہ کربات جو بھی ہو من میں وہ من میں ہی رکھبول دینے سے تکلیف گھٹتی نہیںبلکہ بٹ جاتی ہے اوربڑھ جاتی ہےرات کے وقت تو چپ ہی رہنا مناسب ہے کہنا نہیںایک بھی بات مجھ پر جو بھاری پڑےکوئی بھی بات جو مجھ کو سونے نہ دےاور سن بات سنمیرے سن لینے سے یہ پریشانیاں حل نہ ہوں گی کبھیمیں تیرا ایک معمولی عاشق ہی ہوں چارہ گر بھی نہیںکوئی ایسی پریشانی ہو جس کا حلمیرے سینہ سے لگتے ہی مل جائے گا تو ہی زحمت اٹھامجھ کو بس وہ بتا جس میں جسموں کی تاثیر کام آ سکےاس برہنہ بدن پر بدن کی ہی تدبیر کام آ سکےاور یہ ممکن نہ ہو تو وہی بات ہےرات کا وقت ہے
جنوری کی سردی میںیار شب نوردی میںمیرے گھر چلے آئےمیں نے بھی کمینوں کیمختلف نمونوں کیایسی میزبانی کیکرسی ورسی لگوائیچائے شائع منگوائیآگ تھوڑی دہکائیآگ کے دہکنے سےگفتگو بھی گرمائیگفتگو بھی چائے کیگفتگو الاؤ کیاور پھر الاؤ سےاک بدن کی یاد آئیمیں نے ذکر چھیڑا پھرحشر کا قیامت کااس بدن کی قامت کااس بدن کی رنگت کایارو کیسے بتلاؤںاس بدن کے زیر و بمجسم پہ اگا ریشمناف میں رکی شبنمیار وہ بدن جس دمبازووں میں آتا تھاکیا ستم نہ ڈھاتا تھاآگ ہی لگاتا تھاہائے وہ رہا جب تکہم نے ہجر والوں کیراگنی نہیں گائیسردیاں نہیں آئیںسردیوں سے یاد آیالکڑیوں کے شعلے سبماند پڑ گئے لیکنیار میرے جل اٹھےسب کے سب مچل اٹھے
دور ایک کمرے میںنائٹ بلب جلتا ہےاس کی روشنی میں دلدم بہ دم پگھلتا ہےمیری بے خودی جاناںمجھ سے بات کرتی ہےاس اداس کمرے میںاور حسین لگتی ہےکتنا گہرا رشتہ ہےمیرا اس اداسی سےروز شام آتے ہیساتھ ساتھ چلتے ہیںنائٹ بلب کے نیچےایک ساتھ جلتے ہیں
المان میں رات کے اس پہرایک ہی کرسی پر بیٹھےایک ہی منظر کو گھورتےجب نوکری پر نائٹ شفٹ کرتےمیرا ساتواں گھنٹہ چل رہا ہےتو بظاہر سب ساکت ہےسکوت میں ہےمگر بہ باطن تمہاری سوچوں کا سیالکسی گھمن گھیری کی طرحمیرے دل و دماغ کےسبھی نہاں و عیاں گوشوں میںبے آواز طوفاں برپا کیے ہوئے ہےتم جو کوسوں دوراپنے اطراف میں روشنی پھوٹنے کا منظر نامہفراموش کیےباہنی جانب کھلنے والی کھڑکی کے ساتھ لگےکنگ سائز پلنگ پر اکیلے سو رہے ہوتمہیں کیا خبرساکت منظروں میں ترتیب پانے والےخاموش طوفانکیسی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیںتمہیں کیا خبررت جگوں میں پلنے والےکالے عشقکیسی گہری آنکھوں کا مدفن ہو سکتے ہیںمیرا تم سے محبت نہیں جنون کا رشتہ ہےاور مجنوں کی آہ سے خود جنون بھی خوف کھاتا ہےتم جو میرے جنوں کو نڈر ساحلوں سے ہو کرللکارتے رہتے ہوتمہیں کیا خبرطوفانی راتوں میں ساحلوں سے لوٹنے والی صدائیںاپنی جون سے بگڑی ہوئی حالتوں میں پلٹتی ہیںکبھی جو تم ان کے مسخ شدہ چہروں پروحشت کی آڑی ترچھی سطریں پڑھ پاؤتو ایک لا مختتم بے خوابی کے مرض میں پڑ جاؤ
فصل گل مہکی ہے پھر غنچہ دہن کھلتا ہےشام ڈھلنے لگی اور شب کا بدن کھلتا ہےآسماں پر ہوئے چاہت کے ستارے روشنشہر خاموش میں اک باب سخن کھلتا ہے
کیوں مہک اٹھتا نہ خوشبو سے دماغ عالمنگہت گلشن اسرار گرو نانک تھے
تو بھی مجھ کو توڑ کے خوش ہےپاگلگھر تھی میں تیرا
شکریہسب باغبانوں کاجنہوں نےاپنی محبت اور لگن سےمیرے دل کی زمین کو اس قابل بنایاکہ اب وہاں صرف بے حس کی جھاڑیاں اگتی ہیں
جب تم وہ پڑھنا چاہتے ہوجو مجھے لکھنا نہیں آتااور ناامید ہو کر اپنے چہرے کے نقوش بدل دیتے ہوہماری آنکھوں کے بیچ سات زمینیں اورسات آسمان آ جاتے ہیںاور میری آنکھیں تاریخ کے کھوئے ہوئےاوراق ڈھونڈنے لگ جاتی ہیںتم پوچھتے ہو ایسے کیوں دیکھتی ہومیں واپس آ جاتی ہوںاور تمہیں سچ مچ دیکھنے لگتی ہوںایسے ہی جیسے تم چاہتے ہو
میں نے چاہا تھا کوئی اجالے سا ہاتھمیری انگلی پکڑ کر مجھے آگے بڑھنا سکھائےمدرسوں دفتروں شاہراہوں مکانوں دوکانوںتلک لے چلےلیکن ایسا ہواجس جگہ آنکھیں کھولی تھی میں نےوہاں ہاتھ سارے روٹی بنانے پہ مامور تھےخوف آتا تھا گھر سے نکلتے ہوئےڈگمگاتے قدمگنگ الفاظبے بس نگاہیں لیےآگے بڑھتی تھی میںچونکہ رکنا کوئی حل نہیں تھاسو میں اپنی گلی سے نکل کر جہاں بھی گئیاجنبی میری سہمی ہوئی ذات پہڈرتے ڈرتے ادا ہوتی ہر بات پہفقرے کستے رہےاور ہنستے رہےتب سے اب تک نہیں یادکتنے ہی دریا بہےکب گلابی بدن سانولا ہو گیااجلی بے داغ آنکھوں میںکب درد کے زرد موسم اتر آئےکب آئنہ دھول سے بھر گیا
وہ عشق ہےجو سفید بالوں پہ ہونٹ رکھےسنہرا کر دے
ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہوہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتےہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیںاور چین سے سو جاتے ہیںصبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیںہمیں ایسے مت دیکھوجیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہےہمیں ایسے دیکھوجیسے مرنے والا گور کن کو دیکھتا ہے
ہم نے گھر بنانے کےنا مراد چکر میںتیلیاں بچائی ہیںانگلیاں جلائی ہیں
نظم مر گئی اس دنجب میں نے بیس روپے بچانے کے لیےموٹر گاڑی کو رکشے پہ فوقیت دیاب میں لکھنے بیٹھتی ہوںتو کمبخت رکشے والے کیبے بس آنکھیںکاغذ میں سے جھانکتی ہیںمیں ڈایری پھینک دیتی ہوں
میں نے خون آلود کپڑے تب دھوئے ہیںجب مجھے معلوم نہیں تھاکہ خون سے بچے بنتے ہیںاور بچوں کو جمہوری ممالک دریافت کرتے ہیںاور کاروں میں تیل کی جگہ استعمال کرتے ہیں
ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہوہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتےہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیںاور چین سے سو جاتے ہیںصبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیںہمیں ایسے مت دیکھوجیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہےہمیں ایسے دیکھوجیسے مرنے والا گورکن کو دیکھتا ہے
یہ جو دیواریں میں نے گرا دی ہیںجو ہاتھ زخمی کیے ہیںتم سوچتے ہوکہ سب روشنی دیکھنے کے لیے تھاروشنی کے خدامیں نے چاہا تھا سورج مجھے دیکھ لے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books