aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nikaltii"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہےکئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیںبنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظجن پر اب کوئی معنی نہیں اگتےبہت سی اصطلاحیں ہیں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میںخون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغسازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقابلے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
جہاں میں چار طرف چیخ ہے کراہے ہیںستم رسیدہ دلوں سے نکلتی آہیں ہیںہے شور نالہ و آہ و بکا چہار طرفکہاں کی عید ہے ماتم بپا چہار طرفمنائے کیسے کوئی عید ہر طرف غم ہےمنائے کیسے کوئی عید آنکھ پر نم ہےسنائے کیسے کوئی گیت ساز ٹوٹ گئےجگائے کیسے کوئی آس اپنے چھوٹ گئے
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاریگئی ہے ابھی گونجتی گنگناتیزمانے کی رفتار کا راگ گاتیلچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سیبہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سیوہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتیادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتیجھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرےوہ کلیاں سی کھلتی ہوئی منہ اندھیرےوہ ماتھے پہ ساڑی کے رنگیں کنارےسحر سے نکلتی شفق کے اشارےکسی کی ادا سے عیاں خوش مذاقیکسی کی نگاہوں میں کچھ نیند باقیکسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہےیہ کھڑکی کا رنگین شیشہ گرائےوہ شیشے سے رنگین چہرا ملائےیہ چلتی زمیں پہ نگاہیں جماتیوہ ہونٹوں میں اپنے قلم کو دباتییہ کھڑکی سے اک ہاتھ باہر نکالےوہ زانو پہ گرتی کتابیں سنبھالےکسی کو وہ ہر بار تیوری سی چڑھتیدکانوں کے تختے ادھورے سے پڑھتیکوئی اک طرف کو سمٹتی ہوئی سیکنارے کو ساڑی کے بٹتی ہوئی سیوہ لاری میں گونجے ہوئے زمزمے سےدبی مسکراہٹ سبک قہقہے سےوہ لہجوں میں چاندی کھنکتی ہوئی سیوہ نظروں سے کلیاں چٹکتی ہوئی سیسروں سے وہ آنچل ڈھلکتے ہوئے سےوہ شانوں سے ساغر چھلکتے ہوئے سےجوانی نگاہوں میں بہکی ہوئی سیمحبت تخیل میں بہکی ہوئی سیوہ آپس کی چھیڑیں وہ جھوٹے فسانےکوئی ان کی باتوں کو کیسے نہ مانےفسانہ بھی ان کا ترانہ بھی ان کاجوانی بھی ان کی زمانہ بھی ان کا
چھٹپٹے کے غرفے میںلمحے اب بھی ملتے ہیںصبح کے دھندلکے میںپھول اب بھی کھلتے ہیںاب بھی کوہساروں پرسر کشیدہ ہریالیپتھروں کی دیواریںتوڑ کر نکلتی ہےاب بھی آب زاروں پرکشتیوں کی صورت میںزیست کی توانائیزاویے بدلتی ہےاب بھی گھاس کے میداںشبنمی ستاروں سےمیرے خاکداں پر بھیآسماں سجاتے ہیںاب بھی کھیت گندم کےتیز دھوپ میں تپ کراس غریب دھرتی کوزر فشاں بناتے ہیںسائے اب بھی چلتے ہیںسورج اب بھی ڈھلتا ہےصبحیں اب بھی روشن ہیںراتیں اب بھی کالی ہیںذہن اب بھی چٹیل ہیںروحیں اب بھی بنجر ہیںجسم اب بھی ننگے ہیںہاتھ اب بھی خالی ہیںاب بھی سبز فصلوں میںزندگی کے رکھوالےزرد زرد چہروں پرخاک اوڑھے رہتے ہیںاب بھی ان کی تقدیریںمنقلب نہیں ہوتیںمنقلب نہیں ہوں گیکہنے والے کہتے ہیںگردشوں کی رعنائیعام ہی نہیں ہوتیاپنے روز اول کیشام ہی نہیں ہوتی
روز رات کو یونہینیند میری آنکھوں سےبے وفائی کرتی ہےمجھ کو چھوڑ کر تنہاجیل سے نکلتی ہےبمبئی کی بستی میںمیرے گھر کا دروازہجا کے کھٹکھٹاتی ہےایک ننھے بچے کیانکھڑیوں کے بچپن میںمیٹھے میٹھے خوابوں کاشہد گھول دیتی ہےاک حسیں پری بن کرلوریاں سناتی ہےپالنا ہلاتی ہے
ہر اک کو بھاتی ہے دل سے فضا بنارس کیوہ گھاٹ اور وہ ٹھنڈی ہوا بنارس کیوہ مندروں میں پجاریوں کا ہجوموہ گھنٹیوں کی صدا وہ فضا بنارس کیتمام ہند میں مشہور ہے یہاں کی سحرکچھ اس قدر ہے سحر خوش نما بنارس کیپجاریوں کا نہانا وہ گھاٹ پر آ کروہ صبح دم کی فضا دل کشا بنارس کیوہ کشتیوں کا سماں اور وہ سیر گنگا کیوہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاں فزا بنارس کیہمارے دل سے نکلتی ہے یہ دعا اخترؔکہ پھر بھی شکل دکھائے خدا بنارس کی
شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاستاروں کے رخ سے نقاب اٹھ رہی تھیفضاؤں سے موج شباب اٹھ رہی تھیمئے زندگی جام مے نوش میں تھیوہ کیف مسرت، وہ لمحات رنگیںوہ احساس مستی وہ جذبات رنگیںوہ پر کیف عالم وہ دل کش نظارےوہ جلووں کے بہتے ہوئے خشک دھارےوہ نمکین آغاز شب اللہ اللہنمائش کی وہ تاب و تب اللہ اللہوہ باب مزمل پہ جشن چراغاںفلک پر ہوں جیسے ستارے درخشاںفضاؤں میں گونجے ہوئے وہ ترانےوہ جاں بخش نغمے وہ پر لطف گانےوہ ہر سمت حسن و لطافت کی جانیںوہ آراستہ صاف ستھری دکانیںکہیں پر ہے نظارہ کاری گری کاکہیں گرم ہوٹل ہے پیشاوری کابہ قدر سکوں وہ دلوں کا بہلناامیروں غریبوں کا یکجا ٹہلنانمایاں نمایاں وہ یاران کالجوہ عشرت بہ داماں جوانان کالجکوئی تیز دستی و چستی پہ نازاںکوئی صحت و تندرستی پہ نازاںکوئی حسن کی جلوہ ریزی پہ مائلکوئی شوخ نظروں کی تیزی پہ مائلادھر چشم حیراں کی نظارہ سازیادھر حسن والو کی جلوہ طرازیخراماں خراماں وہ ہمجولیوں میںنکلتی ہوئی مختلف ٹولیوں میںنقابوں میں وہ بے نقابی کا عالمجو لاتا ہے دل پر خرابی کا عالمکسی کا وہ چہرے سے آنچل اٹھاناکسی کا کسی سے نگاہیں چراناکبھی یک بیک چلتے چلتے ٹھہرنانگاہوں سے جلووں کی اصلاح کرناکبھی اک توجہ دکانوں کی جانبکبھی اک نظر نوجوانوں کی جانبتماشا غرض کامیاب آ رہا تھانمائش پہ گویا شباب آ رہا تھاادھر ہم بھی بزم تخیل سجا کرکھڑے ہو گئے ایک دکاں پہ آ کرنظر مل گئی دفعتاً اک نظر سےدھڑکنے لگا دل محبت کے ڈر سےادھر تو نظر سے جبیں سائیاں تھیںادھر سے بھی کچھ ہمت افزائیاں تھیںخلش دل کی دونوں کو تڑپا گئی تھیمحبت کی منزل قریب آ گئی تھیخیالات میں اس طرف اک تلاطملبوں پر ادھر ہلکا ہلکا تبسمنگاہوں سے عہد وفا ہو رہا تھااشاروں سے مطلب ادا ہو رہا تھاادھر عشق کے بام و در سج رہے تھےگھڑی میں جو دیکھا تو نو بج رہے تھےیکایک جواں کچھ مرے پاس آئےجو تھے آستینوں پہ بلے لگائےکہا اتنی تکلیف فرمائیے گانمائش سے تشریف لے جائیے گاغرض چل دئے گھر کو مجبور ہو کرمحبت کے جلووں سے معمور ہو کرہوئی جاری رہی تھی عجب حالت دلکوئی چھین لے جیسے پڑھتے میں ناولہم اس طرح باب مزمل سے نکلےلہو جیسے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلےبہر حال اب بھی وہی ہے نمائشنوید طرب دے رہی ہے نمائشوہی جشن ہے اور وہی زندگی ہےمگر جیسے ہر شے میں کوئی کمی ہےارے او نگاہوں پہ چھا جانے والیمرے دل کو رہ رہ کے یاد آنے والیتری طرح جلوہ نما ہے نمائشترے حسن کا آئنا ہے نمائشنمائش میں تیری لطافت ہے پنہاںنمائش میں تیری نزاکت ہے پنہاںنگاہوں کو ناحق تری جستجو ہےیقیناً نمائش کے پردے میں تو ہے
زیست کو درس اجل دیتی ہے جس کی بارگاہقہقہہ بن کر نکلتی ہے جہاں ہر ایک آہ
وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںتیزی سے جنگلوں میں اڑی جا رہی تھی ریلخوابیدہ کائنات کو چونکا رہی تھی ریلمڑتی اچھلتی کانپتی چنگھاڑتی ہوئیکہرے کی وہ دبیز ردا پھاڑتی ہوئیپہیوں کی گردشوں میں مچلتی تھی راگنیآہن سے آگ بن کے نکلتی تھی راگنیپہنچی جدھر زمیں کا کلیجہ ہلا دیادامن میں تیرگی کے گریباں بنا دیاجھونکے ہوا کے برف بچھاتے تھے راہ میںجلوے سما رہے تھے لرز کر نگاہ میںدھوکے سے چھو گئیں جو کہیں سرد انگلیاںبچھو سا ڈنک مارنے لگتی تھیں کھڑکیاںپچھلے پہر کا نرم دھندلکا تھا پر فشاںمایوسیوں میں جیسے امیدوں کا کارواںبے نور ہو کے ڈوبنے والا تھا ماہتابکہرے میں کھپ گئی تھی ستاروں کی آب و تابقبضہ سے تیرگی کے سحر چھوٹنے کو تھیمشرق کے حاشیے میں کرن پھوٹنے کو تھیکہرے میں تھا ڈھکے ہوئے باغوں کا یہ سماںجس طرح زیر آب جھلکتی ہوں بستیاںبھیگی ہوئی زمیں تھی نمی سی فضا میں تھیاک کشت برف تھی کہ معلق ہوا میں تھیجادو کے فرش سحر کے سب سقف و بام تھےدوش ہوا پہ پریوں کے سیمیں خیام تھےتھی ٹھنڈے ٹھنڈے نور میں کھوئی ہوئی نگاہڈھل کر فضا میں آئی تھی حوروں کی خواب گاہبن بن کے پھین سوئے فلک دیکھتا ہوادریا چلا تھا چھوڑ کے دامن زمین کااس شبنمی دھندلکے میں بگلے تھے یوں رواںموجوں پہ مست ہو کے چلیں جیسے مچھلیاںڈالا کبھی فضاؤں میں خط کھو گئے کبھیجھلکے کبھی افق میں نہاں ہو گئے کبھیانجن سے اڑ کے کانپتا پھرتا تھا یوں دھواںلیتا تھا لہر کھیت میں کہرے کے آسماںاس وقت کیا تھا روح پہ صدمہ نہ پوچھئےیاد آ رہا تھا کس سے بچھڑنا نہ پوچھئےدل میں کچھ ایسے گھاؤ تھے تیر ملال کےرو رو دیا تھا کھڑکی سے گردن نکال کے
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
شہید جور گلچیں ہیں اسیر خستہ تن ہم ہیںہمارا جرم اتنا ہے ہوا خواہ چمن ہم ہیںستانے کو ستا لے آج ظالم جتنا جی چاہےمگر اتنا کہے دیتے ہیں فرداے وطن ہم ہیںہمارے ہی لہو کی بو صبا لے جائے گی کنعاںملے گا جس سے یوسف کا پتہ وہ پیرہن ہم ہیںہمیں یہ فخر حاصل ہے پیام نور لائے ہیںزمیں پہلے پہل چومی ہے جس نے وہ کرن ہم ہیںسلا لے گی ہمیں خاک وطن آغوش میں اپنینہ فکر گور ہے ہم کو نہ محتاج کفن ہم ہیںبنا لیں گے ترے زنداں کو بھی ہم غیرت محفللیے اپنی نگاہوں میں جمال انجمن ہم ہیںنہیں تیشہ تو سر ٹکرا کے جوئے شیر لائیں گےبیابان جنوں میں جانشین کوہ کن ہم ہیںزمانہ کر رہا ہے کوششیں ہم کو مٹانے کیہلا پاتا نہیں جس کو وہ بنیاد کہن ہم ہیںنہ دولت ہے نہ ثروت ہے نہ عہدہ ہے نہ طاقت ہےمگر کچھ بات ہے ہم میں کہ جان انجمن ہم ہیںترے خنجر سے اپنے دل کی طاقت آزمانا ہےمحبت ایک اپنی ہے ترا سارا زمانہ ہےفدائے ملک ہونا حاصل قسمت سمجھتے ہیںوطن پر جان دینے ہی کو ہم جنت سمجھتے ہیںکچھ ایسے آ گئے ہیں تنگ ہم کنج اسیری سےکہ اب اس سے تو بہتر گوشۂ تربت سمجھتے ہیںہمارے شوق کی وارفتگی ہے دید کے قابلپہنچتی ہے اگر ایذا اسے راحت سمجھتے ہیںنگاہ قہر کی مشتاق ہیں دل کی تمنائیںخط چین جبیں ہی کو خط قسمت سمجھتے ہیںوطن کا ذرہ ذرہ ہم کو اپنی جاں سے پیارا ہےنہ ہم مذہب سمجھتے ہیں نہ ہم ملت سمجھتے ہیںحیات عارضی صدقے حیات جاودانی پرفنا ہونا ہی اب اک زیست کی صورت سمجھتے ہیںہمیں معلوم ہے اچھی طرح تاب جفا تیریمگر اس سے سوا اپنی حد الفت سمجھتے ہیںغم و غصہ دکھانا اک دلیل ناتوانی ہےجو ہنس کر چوٹ کھاتی ہے اسے طاقت سمجھتے ہیںغلامی اور آزادی بس اتنا جانتے ہیں ہمنہ ہم دوزخ سمجھتے ہیں نہ ہم جنت سمجھتے ہیںدکھانا ہے کہ لڑتے ہیں جہاں میں با وفا کیوں کرنکلتی ہے زباں سے زخم کھا کر مرحبا کیوں کر
لپکتا سرخ امکاںجو مجھے آئندہ کیدہلیز پر لا کر کھڑا کرنے کی خواہش میںمچلتا ہےمرے ہاتھوں کو چھو کرمجھ سے کہتا ہےتمہاری انگلیوں میںخون کم کیوں ہےتمہارے ناخنوں میں زردیاں کس نے سجائی ہیںکلائی سےنکلتی ہڈیوں پراون کم کیوں ہےمیں اس سےناتواں سی اک صدا میںپوچھتا ہوںاس سے پہلے تم کہاں تھےاس سے پہلے بھی یہی ساری زمینیں تھیںیہی سب آسماں تھےاور میری آنکھ میںنیلے، ہرے کے درمیاںاک رنگ شاید اور بھی تھااب مرے اندر نہ جھانکومیرے باطن میں مسلسل تیرتی ہے اونگھتی دنیا سرابوں کینفی سارے حسابوں کی
ستارےپھر سر شام اس فضا میں تم ابھرتے ہومری ہر شاخ میںآسودگی کی شمع جلتی ہےمرے ہر برگ سےموجودگی کی لو نکلتی ہے
جب دسمبر میں دھند اترتی ہےاپنے اسرار میں لپٹتی ہوئی، تہہ بہ تہہ ہم پہ فاش ہوتی ہوئییہ کسی یاد کے دسمبر سے دل کی سڑکوں پہ آ نکلتی ہےراہ تو راہ دل نہیں ملتا دھند جب ہم میں آ ٹھہرتی ہےکیف کی صبح خوش مقدر میں، یہ در راز ہم پہ کھلتا ہےجیسے دل سے کسی پیمبر کے، رب کی پہلی وحی گزرتی ہےراہ چلتے ہوئے مسافر پر یوں دسمبر میں دھند اترتی ہےباغ بھی، راہ بھی، مسافر بھی راز کے اک مقام میں چپ ہیںدھند ان سب سے بات کرتی ہے اور یہ احترام میں چپ ہیںدھند میں اک نمی کا بوسہ ہےمیری آسودگی کے ہاتھوں پر ایک بسری کمی کا بوسہ ہےایک بھولی ہوئی کمی جیسے، دھند میں یاد کی نمی جیسےمیرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے میری آنکھوں سے بات کرتی ہےاپنے اسرار میں لپٹتی ہوئی جب دسمبر میں دھند اترتی ہے
یہ کون آ گیا رخ خنداں لیے ہوئےعارض پہ رنگ و نور کا طوفاں لیے ہوئےبیمار کے قریب بصد شان احتیاطدل داریٔ نسیم بہاراں لیے ہوئےرخسار پر لطیف سی اک موج سر خوشیلب پر ہنسی کا نرم سا طوفاں لیے ہوئےپیشانیٔ جمیل پہ انوار تمکنتتابندگیٔ صبح درخشاں لیے ہوئےزلفوں کے پیچ و خم میں بہاریں چھپی ہوئیاک کاروان نکہت بستاں لیے ہوئےآ ہی گیا وہ میرا نگار نظر نوازظلمت کدے میں شمع فروزاں لیے ہوئےاک اک ادا میں سیکڑوں پہلوئے دلدہیاک اک نظر میں پرسش پنہاں لیے ہوئےمیرے سواد شوق کا خورشید نیم شبعزم شکست ماہ جبیناں لیے ہوئےدرس سکون و صبر بہ ایں اہتمام نازنشتر زنیٔ جنبش مژگاں لیے ہوئےآنکھوں سے ایک رو سی نکلتی ہوئی ہر آنغرقابئ حیات کا ساماں لیے ہوئےہلتی ہوئی نگاہ میں بجلی بھری ہوئیکھلتے ہوئے لبوں میں گلستاں لیے ہوئےیہ کون ہے مجازؔ سے سرگرم گفتگودونوں ہتھیلیوں پہ زنخداں لیے ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books