Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زنان مصر اور زلیخا

اختر جمال

زنان مصر اور زلیخا

اختر جمال

MORE BYاختر جمال

    کہانی کی کہانی

    یہ افسانہ نبی یوسف اور زلیخا کے محبت کی داستان کی بازیافت ہے۔ حالانکہ اس افسانے میں اس داستان کو ایک مرد کی بجائے ایک عورت کے نظریے سے دکھایا گیا ہے۔ زلیخا کا یوسف سے ملنا اور پھر یوسف کے قید کیے جانے تک کے سارے واقعے کو زلیخا اپنے نظریے سے بیان کرتی ہوئی ثابت کرتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ زلیخا نے خود غرضی سے نہیں بلکہ خدا کے حکم سے کیا۔

    ’’یوسف اور زلیخا کی کہانی مذہبی کتابوں میں رمز اور کنائے میں بیان ہوئی ہے لیکن بہت سے شاعروں اور ادیبوں نے اس قصہ کو کہانی کی صورت میں نظم و نثر میں لکھا ہے مگر وہ سب چیزیں مرد کے نقطۂ نظر کی ترجمان ہیں جس میں ہر چیز کا الزام کار عورت پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس کہانی میں ان رمز و علامات کو نئے انداز سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

    مصر کی سب خوبصورت اور معزز عورتوں نے کہا حاشا! یہ انسان نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے اور انہوں نے یوسف کو دیکھ کر مارے حیرت کے اپنے انگوٹھے کاٹ لیے اور ان کے انگوٹھوں سے خون رسنے لگا۔ زلیخا نے کہا وہ ایک جیتا جاگتا آدمی ہے جو کھاتا پیتا اور سوتا ہے۔ وہ فرشتہ نہیں، فرشتوں سے بڑا ہے۔ میں چاہتی ہوں تم سب اسے سجدہ کرو اس طرح تمہارے انگوٹھوں سے خون بہنا بند ہو جائےگا اور تمہارے زخم بھر جائیں گے۔

    زلیخا بشر تھی اور بشر تو شک، رشک اور حسد کا پتلا ہے۔ اس لیے زلیخا سوچ میں پڑگئی کہ زنان مصر کی حیرت کی وجہ یوسف کا حسن ہے یا اسے یہاں دیکھنے کی حیرت میں خوف شامل ہے۔ زلیخا نے سوچا کہ آخر اس نے بھی تو یوسف کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے ہیں۔ پھر یہ عورتیں ہوش و حواس کیوں کھو بیٹھیں۔ عزیز مصر اور سارے دربار نے بھی یوسف کا حسن دیکھا تھا پھر آخر شہر کی معزز بیگمات نے اپنے انگوٹھے کیوں کاٹ لیے۔ کیا وہ یوسف سے ڈرتی ہیں؟ کیا وہ ان کے رازوں کا امین ہے اور اس لمحہ زلیخا بدگمانی میں مبتلا ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ یوسف ان عورتوں کو دیکھ کر گھبرا کیوں گیا تھا۔ وہ حیران اور پریشان سا جلدی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔ اگر کھڑا ہو جاتا، ٹھہر جاتا تو شاید پھر وہ انگوٹھے نہ کاٹتیں۔ کیا یوسف ان عورتوں کو پہلے سے جانتا تھا۔ اس رمز کو جاننے کے لیے زلیخا مچل اٹھی۔ آخر انگوٹھے کاٹے جانے میں کیا مزہ ہے؟ پھر اس نے سوچا اب وہ یوسف کو لائےگی اور ان سب عورتوں کو سجدے کا حکم دےگی، دیکھیں وہ اسے سجدہ کرتی ہیں یا نہیں۔۔۔! زلیخا دوڑی دوڑی یوسف کے پیچھے پیچھے گئی اور بھاگتے ہوئے یوسف کا دامن پکڑ کر بولی، ٹھہرو۔۔۔ وہ ایک لمحہ کو رکا۔ زلیخا نے کہا، ’’ذرا میرے ساتھ اندر آؤ۔‘‘

    یوسف حیران پریشان گھبرایا تھا۔ وہ زلیخا کامطلب نہیں سمجھ سکا۔ اس نے سوچا وہ ان سب عورتوں سے کیسے پیچھا چھڑائے۔ اس نے دعا کی کہ خدا مجھے ان عورتوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ زلیخا کی نیت کا حال خدا ہی جانتا تھا۔ وہ اتنی معصومیت سے اس کا دامن پکڑے اسے اندر بلا رہی تھی مگر یوسف زلیخا کو بھی مصر کی دوسری معزز عورتوں کی طرح سمجھا اور بھاگ کھڑا ہوا۔

    تب زلیخا نے بھاگتے ہوئے یوسف کا دامن زور سے پکڑ لیا۔ یوسف تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا۔ دامن کی دھجی پھٹ کر زلیخا کے ہاتھ میں رہ گئی۔ زلیخا اندر آئی تو اس نے دیکھا کہ مصر کی معزز بیگمات اپنے انگوٹھے پکڑے درد سے تڑپ رہی تھیں۔ زلیخا نے دامن کی وہ دھجی پھاڑ پھاڑ کر سب عورتوں کو بانٹ دی اور کہا کہ لو اپنے انگوٹھوں پر پٹی باندھ لو۔ عورتوں نے انگوٹھوں پر پٹیاں باندھ لیں تو خون بہنا بند ہو گیا اور ان کے انگوٹھے چمک اٹھے، وہ پٹی روشن ہوگئی۔ اس لیے کہ یوسف کے دامن کی دھجی تو بس روشنی کی ایک لکیر تھی۔ زلیخا نے مسکراکر ان عورتوں سے کہا، ’’اگر تم انگوٹھے کی جگہ ہاتھ کاٹ دیتیں تو تمہارا پورا ہاتھ روشن ہو جاتا۔‘‘ پھر زلیخا نے باری باری سب عورتوں کو گلے لگایا اور وہ اپنے روشن انگوٹھوں کو دیکھتی ہوئی خوشی خوشی رخصت ہوئیں۔

    جب کاہن اعظم کو بتایا گیا کہ مصر کی معزز عورتوں کے انگوٹھوں سے رشنی کی شعائیں نکلتی ہیں تو کاہن اعظم نے کہا وہ سب عصمت مآب عورتیں ہیں اور ان کے ساتھ مقدس روشنی ہے۔ یہ سن کر مصر کے شریف اور بڑے آدمی اپنی اپنی عورتوں پر فخر کرنے لگے اور ان عورتوں کو دیوداسیوں سے بھی بڑا مرتبہ دیاگیا، ہر طرف ان کی عصمت اور بزرگی کی دھوم مچ گئی۔

    عزیز مصر نے زلیخا سے کہا کہ مصر کی سب عصمت مآب اور پاک دامن عورتوں کے انگوٹھے روشن ہوگیے ہیں، تم اپنا انگوٹھا دکھاؤ۔ زلیخا نے مسکراکر ہاتھ بڑھایا تو اس کا انگوٹھا روشن نہیں تھا، وہ تو ایک معمولی ہاتھ تھا۔ تب عزیز مصر نے دکھ سے کہا، ’’میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ آج مصر کے سب مردوں کے سامنے میرا سر جھک گیا۔‘‘ کاہن اعظم نے جب سنا کہ زلیخا کا ہاتھ ایک معمولی عورت کا ہاتھ ہے اور اس کے انگوٹھے سے روشنی کی شعائیں نہیں نکلتیں تو اس نے کہا، ’’افسوس!عزیز مصر کی بیوی ایسی ہو۔‘‘

    ادھر سب لوگوں نے یوسف کا پھٹا ہوا کرتا دیکھا تو زلیخا کے مجرم ہونے میں کسی کو شک نہ رہا۔ بزرگوں نے گواہی دی کہ کرتا پیچھے سے پھٹا ہے اس لیے زلیخا مجرم ہے۔ زلیخا کا دل دکھ سے بھر گیا، اس نے سوچا کہ یوسف کے دل میں کوئی چور تھا۔ آخر وہ بھاگا کیوں، کیوں کھڑا نہ رہا۔ اس کے ساتھ اندر کیوں نہ آیا، نہ وہ بھاگتا نہ کرتا پھٹتا۔ مگر وہ کسی سے کیا کہتی، وہ مجرم بنی خاموش کھڑی رہی۔ زلیخا کا جی چاہا کہ وہ ان سب بزرگوں کو یہ راز بتا دے کہ اگر وہ یوسف کا دامن نہ پھاڑتی تو ان سب عورتوں کے انگوٹھے روشن نہ ہوتے مگر وہ خاموش رہی، اسے اپنی چھوٹی سی نیکی کا ڈھنڈورا پیٹنا اچھا نہ لگا۔ یہ کم ظرفی تھی اور لوگ نیت نہیں دیکھتے، وہ ظاہر عمل دیکھتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے انصاف رکھ لیا ہے لیکن زلیخا کو دکھ اس بات کا تھا کہ یوسف بھی اسے نہیں پہچانا اور وہ اسے غلط سمجھا۔ وہ تو سب کو اس کے سامنے سجدہ کرانا چاہتی تھی۔

    زلیخا چپ رہی۔ وہ کسی سے کیا کہتی، کوئی اس کی بات سمجھنے والا نہ تھا۔ زلیخا پر تہمت لگ گئی حالانکہ اس کا انگوٹھا صحیح سالم تھا۔ شاید اس کا جرم یہی تھا کہ اس نے انگوٹھا نہیں کاٹا تھا اور یوسف کو دیکھ کر بھی اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے تھے۔ عزیز مصر نے زلیخا کی روشن آنکھوں میں دیکھے بغیر نفرت سے منہ موڑ لیا اور بولا، ’’تم نے بری نظر سے غیر کی طرف دیکھا ہے۔‘‘ زلیخا نے کہا، ’’مجھے کوئی غیر نظر ہی نہیں آتا۔‘‘پھر اس نے عزیز مصر اور سب بزرگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور اپنا سر بلند رکھا۔

    پھر وہ سب یوسف کو سامنے لائے اور اس کا پیچھے سے پھٹا ہوا کرتا دکھایا گیا۔ یوسف نے زلیخا کی طرف دیکھا زلیخا مسکرائی۔ یوسف اپنا سر اونچا اٹھائے چل رہا تھا۔ عزیز مصر نے زلیخا سے کہا، ’’اب تم کیا کہتی ہو؟‘‘ زلیخا مسکراکر بولی، ’’بےشک یہ سچا ہے۔‘‘ اور اپنا سر جھکالیا۔ زلیخا دل سے یوسف کی صداقت پرایمان لے آئی تھی اور وہ یوسف کے وہاں سے بھاگنے کا رمز سمجھ گئی تھی۔ عزیز مصر نے کہا، ’’تو مان گئی کہ تو نے بری نگاہ سے غیر کو دیکھا ہے۔‘‘ زلیخا نے پھر وہی بات دہرائی، ’’میں نے آج تک کسی غیر کو نہیں دیکھا مجھے غیر نظر ہی نہیں آتا۔ میری آنکھیں تو بس آپ کو دیکھتی ہیں۔‘‘ عزیز مصر نے کہا، ’’لیکن میں تو یہاں ہوں۔‘‘ زلیخا نے مسکراکر یوسف کی طرف دیکھا اور بولی، ’’میں یہاں ہوں۔‘‘

    یوسف اس کی بات سمجھ گیا اور اس کا سر جھک گیا۔ اس نے کہا، ’’مجھے جیل خانے جانا منظور ہے۔‘‘ زلیخا نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا لیا اور مسکرانے لگی۔ زلیخا اپنے محل میں آکر سوچنے لگی کہ قافلے والے جب یوسف کو مصر لے کر آئے تو راستے میں انہوں نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالا ہوگا، کاش وہ گھوم پھر کر دیکھ سکتی کہ اور کہاں کہاں کن کن عورتوں نے مارے حیرت کے انگوٹھے کاٹے تھے۔ زلیخا کا جی چاہا کہ وہ ایک انعام مقرر کرے تاکہ سب عورتیں اسے اپنے کٹے ہوئے انگوٹھے دکھانے آئیں اور انعام لے لیں۔ پھر اس نے سوچا کہ انعام کے لالچ میں تو ہر ایک اپنا انگوٹھا کاٹ کر آجائیں گی اور یہ کام زلیخا کے مرتبہ اور شان کے خلاف تھا کہ وہ سارے جہاں کی عورتوں کے انگوٹھے دیکھتی پھرے اور پھر اس نے سوچا آخر یہ جان کر کیا کرےگی۔ اس کی بلا سے۔ ارے جہاں کی عورتیں اپنے انگوٹھے کاٹ ڈالیں۔ جیت اس وقت یوسف کی ہوتی اگر زلیخا بھی اپنا انگوٹھا کاٹ لیتی۔ مگر اس کا انگوٹھا سلامت ہے۔ اس لیے جیت اس کی ہوئی۔۔۔ اور انصاف کے دن تو یوسف بھی اسے پہچان ہی لےگا۔۔۔! اور وہ انصاف کے دن کا انتظار کرنے لگی۔

    جیل خانے کا محافظ تنگ اور تاریک تہہ خانے کے حجرہ میں بند کرنے یوسف کو لے کر چلا۔ مگر جوں جوں تہہ خانے میں اترتا جاتا تھا اس کی آنکھیں چندھیائی جاتی تھیں۔ اس نے سوچا سورج آسمان پر نکلتا ہے یا وہ زمین کی گہرائیوں میں کہیں دفن ہے۔ اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ سورج اس کے ساتھ چل رہا ہے اس لیے کہ اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ اسے جیل خانے کا داروغہ بنے ہوئے سالہا سال ہو گیے تھے۔ روشنی سے لاکر تاریکی میں بند کرنا اس کا کام تھا مگر آج پہلی مرتبہ اسے نیا کام دیا گیا تھا۔ روشنی کو قید کرنے کا کام۔

    داروغہ نے تہہ خانے کے آخری تنگ اور تاریک حجرے کا دروازہ کھول کر یوسف کو اس میں بند کر دیا اور جب کوٹھری میں بڑا سا آہنی تالہ ڈال کر وہ مڑا تو گھبراکر پھر دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے کی درز سے روشنی کی شعاعیں نکل رہی تھیں اور وہ شعاعیں لوہے کی تالے کے آر پار نظر آ رہی تھیں۔ داروغہ حواس باختہ ہوکر وہاں سے چلا۔ واپسی میں وہ قدم قدم پر ٹھوکر پہ ٹھوکر کھاتا تھا اور گرتا تھا۔ اسے تعجب تھا کہ جس اندھیرے حجرے میں وہ پل بھر میں داخل ہوا تھا اس حجرے سے واپسی میں وقت اتنا لمبا کیوں ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ساری عمر اندھیرے غاروں میں دھکے کھاتا رہےگا اور راستہ نہیں ملےگا، دروازہ نہیں آئےگا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ واپس جائے اور یوسف کے قدموں پر گر کر اس سے معافی مانگ لے مگر پھر عزیز مصر کے خوف سے وہ اندھیرے میں راستہ ٹٹول ٹٹول کر چلتا رہا۔

    جب وہ قید خانے سے باہر نکلا تو رات کا وقت تھا۔ اس نے سوچا خدا جانے ایک رات گزری ہے یا اس سفر میں کئی راتیں گزر چکی ہیں۔ اس لیے کہ اس کی داڑھی کے کالے بال سفید ہو گیے تھے۔ اندھیری رات میں مصر کے بالاخانوں میں دیے روشن نظر آئے تو اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا آج کوئی تہوار ہے۔ مصر کی سب عورتوں نے چراغاں کیوں کیا ہے۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ آج رات مصر میں اتنی تاریکی ہو گئی تھی جیسے کنعان کا چاند چھپ گیا۔ عزیز مصر نے اندھیرے سے گھبراکر چراغاں کا حکم دیا۔ پھر بھی تاریکی دور نہ ہوئی تو مصر کی وہ سب پاک دامن عورتیں اپنے اپنے بالاخانوں پر ہاتھ اٹھاکر کھڑی ہو گئیں جن کے انگوٹھے روشن تھے اور یہ جو چراغوں کی لوئیں نظر آ رہی ہیں یہ مصر کی بزرگ اور نیک عورتوں کے انگوٹھے چمک رہے ہیں۔

    زلیخا نے اس رات عجیب خواب دیکھا۔ مگر اس نے اپنے خواب کا کسی سے ذکر نہیں کیا اور سوچا آج کی رات مقدر کو نیند آ رہی ہے مگر وہ ضرور جاگے گا۔ تاریکی میں سارا مصر سو رہا تھا۔ روشن انگوٹھوں والی عورتیں بھی اپنی خوابگاہوں میں واپس چلی گئی تھیں اور گہری نیند میں تھیں۔ تقدیر کا فرشتہ بھی سو گیا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ قلم اور کاغذ سوتے میں بھی اس کے پاس تھے۔ وہ نیند کی غفلت میں کچھ لکھ رہا تھا۔ زلیخا نے چپکے سے تقدیر کے فرشتہ کے ہاتھ سے قلم لے لیا اور کہا، ’’اپنی کہانی میں خود لکھوں گی۔‘‘ سارا مصر سو رہا تھا۔ زلیخا جاگ رہی تھی۔

    زلیخا نے وہ خواب بھی سوتے ہوئے نہیں، جاگتے ہوئے دیکھا تھا اور وہ عجیب الجھن میں تھی کہ یہ عالم بیداری ہے یا عالم خواب اور آپ سے آپ اس کا سر ان دیکھے خدا کے سامنے جھک گیا۔ اس نے جھک کر سجدے میں ان دیکھے خدا سے اقرار کیا، نہ میں ہوں نہ یوسف ہے بس تو ہے اور یوسف تو تیرے اجالے کی کرن لایا تھا جو کچھ میں نے عزیز مصر کے سامنے کہا تھا وہ تیرا ہی حکم تھا، تو روز قیامت گواہ رہنا۔ پھر زلیخا نے سجدے سے سر اٹھا لیا اور سوچا اب میرا کسی